حدیث نمبر: 542
542/701 عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، أنه قال لأبيه: يا أبت عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، أنه قال لأبيه: يا أبت! إني أسمعك تدعو كل غداة: "اللهم عافني في بدني، اللهم عافني في سمعي، اللهم عافني في بصري، لا إله إلا أنت"، تعيدها ثلاثاً حين تمسي، وحين تصبح ثلاثاً، وتقول: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر، اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر، لا إله إلا أنت". تعيدها ثلاثاً حين تمسي، وحين تصبح ثلاثاً؟ فقال: نعم؛ يا بني! سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بهن. وأنا أحب أن أستن بسنته. قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " دعوات المكروب: اللهم رحمتك أرجو، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين، وأصلح لي شأني كله، لا إله إلا أنت".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان ! میں آپ کو سنتا ہوں کہ ہر صبح آپ یہ دعا کرتے ہیں : «اللهم عافني فى بدني ، اللهم عافني فى سمعي ، اللهم عافني فى بصري ، لا إله إلا أنت» ”اے اللہ ! مجھے میرے جسم میں عافیت دے ۔ اے اللہ ! مجھے میری سماعت میں عافیت دے ۔ اے اللہ ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ آپ اس دعا کو صبح تین مرتبہ پڑھتے ہیں اور شام کو تین مرتبہ پڑھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں : «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر ، اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ، لا إله إلا أنت» آپ اس دعا کو صبح تین مرتبہ پڑھتے ہیں اور شام کو تین مرتبہ پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا: ہاں اے میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت پر عمل کروں اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بے چینی میں مبتلا آدمی کی یہ دعا ہے : «اللهم رحمتك أرجو ، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين ، وأصلح لي شأني كله ، لا إله إلا أنت» اے اللہ ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں ایک لمحے کے لئے بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر ، ہماری ہر حالت کو درست کر دے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ) ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 542
تخریج حدیث (حسن)