حدیث نمبر: 449
449/576 عن أبي ظبيان قال: قال لي عمر بن الخطاب: يا أبا ظبيان! كم عطاؤك؟ قال: ألفان وخمسمائة. قال له: " يا أبا ظبيان! اتخذ من الحرث والسّابياء(3) من قبل أن تليكم غلمة قريش، لا يعدّ العطاء معهم مالاً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابوظبیان سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوظبیان ! تمہارا وظیفہ کتنا ہے ؟ میں نے کہا: ڈھائی ہزار ، انہوں نے کہا: اے ابوظبیان ! تم زراعت کا کام کرو اور جانوروں کی افزائش نسل کا کام کرو اس سے پہلے کہ قریش کے چھوکرے تمہارے حکمران بنیں ، ان کے ہوتے ہوئے وظیفے کو مال نہیں کہا جائے گا ۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 449
تخریج حدیث (حسن الإسناد)