432/555 عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: "لم يكن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم متحزقين(6)، ولا متماوتين(7)، وكانوا يتناشدون الشعر في مجالسهم، ويذكرون أمر جاهليتهم، فإذا أريد أحد منهم على شيء من أمر الله، دارت حماليق عينيه(8) كأنه مجنون".ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مجتمع ہونے والے نہیں تھے اور نہ اپنے آپ کو بیمار و کمزور ظاہر کرنے والے تھے (یعنی ایسے ظاہر نہیں کرتے تھے کہ عبادت کر کر کے وہ تھک گئے ہیں) اور وہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کو شعر و شاعری سنایا کیا کرتے تھے اور وہ اپنے جاہلیت کے حالات کو یاد کیا کرتے تھے اور جب ان میں سے کسی ایک کو اللہ کے حکم پر کسی چیز پر طلب کیا جاتا تو اس کی آنکھوں کی پتلیاں گھومنے لگتیں گویا کہ وہ مجنون ہے ۔ (یعنی اللہ کے حکم پر اتنے پریشان ہو جاتے کہ اپنی پوری آنکھیں کھول دیتے اور اس پر خوفزدہ ہوتے کہ کہیں ان سے عمل میں کوتاہی نہ ہو جائے۔ )