357/460 عن ورّاد كاتب المغيرة قال: كتب معاوية إلى المغيرة: اكتب إلي ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم. فكتب إليه : إن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة: " لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد". وكتب إليه: " إنه كان ينهى عن قيل وقال، وكثرة السؤال، وإضاعة المال. وكان ينهى عن عقوق الأمهات، ووأد البنات. ومنع وهات".وراد سے مروی ہے جو مغیرہ کے کاتب تھے انہوں نے کہا: (ایک بار ) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ کی طرف لکھ بھیجا : میری طرف کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھ بھیجا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلاَ مُعْطِيَ لَمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ .» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ واحد لا شریک ہے ، اسی کا یہ سارا جہان ہے ، اور اسی کی حمد ہے ، وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جس کو تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور جس کو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ، اور کسی ریاست والے کو تیرے مقابلہ میں ریاست نفع نہیں پہنچا سکتی ہے۔“ اور ان کے پاس یہ بھی لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیل و قال سے ، کثرت سوال سے اور بربادی مال سے منع فرماتے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماؤں کی نافرمانیوں سے ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے سے اور لوگوں کے حقوق روکنے اور بلا حق مانگنے سے منع فرماتے تھے ۔