حدیث نمبر: 291
291/378 (صحيح) هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " بينما رجلٌ يمشي بطريق اشتد به العطش، فوجد بئراً فنزل فيها، فشرب ثم خرج، فإذا كلب يلهث؛ يأكل الثرى من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي كان بلغني، فنزل البئر فملأ خُفّاه، ثم أمسكها بفيه، فسقى الكلب، فشكر الله له، فغفر له". قالوا: يا رسول الله! وإن لنا في البهائم أجراً؟ قال: " في كل ذاتِ كبدٍ رطبة أجر".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک شخص کو راہ چلتے چلتے شدید پیاس لگی ۔ اسے ایک کنواں ملا ۔ وہ کنویں میں اتر پڑا اس نے پانی پی لیا ۔ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا تھا اور زبان باہر نکالے ہوئے تھا ، پیاس کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا ۔ اس شخص نے کہا کہ اس کتے کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی ۔ اس کے بعد وہ پھر کنویں میں اترا ۔ اپنے موزوں میں پانی بھرا اور اس کو منہ میں پکڑ کر اوپر لایا اور کتے کو پلا دیا ۔ اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اس کی مغفرت فرما دی ۔“ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیں جانوروں (کے ساتھ بھلائی ) کا بھی اجر ملتا ہے ۔ فرمایا : ”ہر زندہ چیز (کے ساتھ بھلائی ) کا اجر ملتا ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 291