حدیث نمبر: 289
298/367 (صحيح) عن أنس بن مالك قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم أرحم الناس بالعيال، وكان له ابن مسترضع في ناحية المدينة، وكان ظئره (1)قيناً(2) وكنا نأتيه، وقد دخن البيت بإذخرٍ ؛ فيقبله ويشمه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس بن ملک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل و عیال کے حق میں سب لوگوں سے زیادہ رحم دل تھے ۔ آپ کا مدینہ کے کنارے میں ایک شیر خوار بچہ تھا ۔ اور اس کی رضاعی ماں کا شوہر لوہار تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے پاس آیا کرتے تھے ۔ اس نے اذخر کو جلا کر پورے گھر میں دھواں بھرا ہوتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کا بوسہ لیتے تھے اور اسے منہ سے لگاتے تھے (سونگھتے) ۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 289