252/331(حسن الإسناد) عن عكرمة قال: لا أدري أيهما جعل لصاحبه طعاماً، ابن عباس أو ابن عمه؛ فبينا الجارية تعمل بين أيديهم، إذ قال أحدهم لها: يا زانية! فقال: مه! إن لم تحدّك في الدنيا تحدّك في الآخرة. قال: أفرأيت إن كان كذاك؟ قال: " إن الله لا يحب الفاحش المتفحش"(8). ابن عباس الذي قال: إن الله لا يحب الفاحش المتفحش.عکرمہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یا ان کے چچا کے بیٹے ان دونوں میں سے کس نے اپنے ساتھی کا کھانا تیار کیا ؟ صورتحال یہ تھی کہ لونڈی ان کے سامنے کام کر رہی تھی جبکہ ان میں سے ایک نے لونڈی سے کہا: اے بدکار ! تو دوسرے نے کہا: رک جا ۔ اگر یہ لونڈی تمہیں دنیا میں حد نہ لگا سکے گی تو آخرت میں حد لگائے گی ۔ دوسرے نے کہا: آپ ذرا یہ بتائیں اگر حقیقت میں ایسا ہو تو ۔ انہوں نے کہا: اللہ بیہودہ بات کرنے والے اور تکلف سے بات کرنے والے سے محبت نہیں کرتا ۔ یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے جنہوں نے یہ جملہ بولا: «إن الله لا يحب الفاحش المتفحش» ۔