حدیث نمبر: 236
236/311 (صحيح) عن عائشة رضي الله عنها ؛ أن يهودياً أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: السام عليكم، فقالت عائشة: وعليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم. قال: " مهلاً يا عائشة! عليك بالرفق، وإياك والعنف والفحش". قالت: أو لم تسمع ما قالوا؟ قال: " أو لم تسمعي ما قلت؟ رددت عليهم، فيستجاب لي فيهم، ولا يستجاب لهم فيّ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے «السام عليكم» (تم پر تباہی آئے ) کہا: ۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور تم پر بھی تباہی ، اور اللہ تم پر لعنت کرے ، اور اللہ کا غضب تم پر ہو ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ٹھہرو عائشہ ! تمہیں نرمی اختیار کرنی چاہئے ، سختی اور فحش کلامی سے پرہیز کرو ۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں جو ان لوگوں نے کہا: ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا: ؟ میں نے ان پر لوٹا دیا ہے میری بات تو ان کے حق میں قبول ہو جائے گی اور ان کی بددعا میرے حق میں قبول نہ ہو گی ۔ “

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 236