حدیث نمبر: 212
212/278 عن أنس بن مالك قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم رحيماً، وكان لا يأتيه أحدٌ إلا وعده، وأنجز له إن كان عنده، وأقيمت الصلاة، وجاءه أعرابي فأخذ بثوبه فقال: إنما بقي من حاجتي يسيرة؛ وأخاف أنساها، فقام معه حتى فرغ من حاجته، ثم أقبل فصلّى".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل تھے ۔ جب کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اپنی ضرورت کے لیے ) آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وعدہ کر لیتے اور اسے پورا کرتے ، بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ۔ (ایک بار) نماز کی اقامت کہی گئی اور ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: میری ایک تھوڑی سی ضرورت باقی رہ گئی ہے ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اسے بھول نہ جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکے ساتھ چلے گئے یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری کر دی اور اس کے بعد آ کر نماز پڑھائی ۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 212
تخریج حدیث (حسن)