199/264 عن أنس بن مالك قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم على بعض نسائه -ومعهن أم سليم- ( وفي طريق أخرى عنه: أن البراء بن مالك كان يحدو بالرجال، وكان أنجشة يحدوا بالنساء، وكان حسن الصوت/1264). فقال [ النبي صلى الله عليه وسلم]: يا أنجشة(1(1)! رويداً سوقكَ بالقوارير(2)". قال أبو قلابة: فتكلم النبي صلى الله عليه وسلم بكلمة لو تكلم بها بعضكم لعبتموها عليه. قوله: "سوقك بالقورارير".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس ام سلیم بھی تھیں ۔ اور ایک دوسری سند میں ہے : براء بن مالک مردوں کے ساتھ حدی خوانی کر رہا تھا اور انجشہ عورتوں کے ساتھ حدی خوانی کر رہا تھا ، اور انجشہ خوش آواز تھے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اے انجشہ ! ان بوتلوں کو نرمی کے ساتھ چلاؤ ۔“ ابوقلابہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا لفظ بولا: اگر تم میں سے کوئی آدمی بولتا تو تم اس پر عیب لگاتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ : ”شیشے کی بنی ہوئی بوتلوں کو ہانکنا اور چلانا ۔“ (حدی خوانی : اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے ایک ترانہ گایا جاتا ہے ۔ )