صحيح الادب المفرد
— حصہ اول : احادیث 1 سے 249
باب فضل من مات له الولد باب: جس کا بچہ فوت ہو گیا اس کی فضیلت
110/148 عن أبي هريرة : جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله ! إنا لا نقدر عليك في مجلسك، فواعدنا يوماً نأتِك فيه، فقال " موعدكن بيت فلان". فجاءهن لذلك الوعد، وكان فيما حدثهن: " ما منكن امرأة يموت لها ثلاثة من الولد، فتحتسبهم، إلا دخلت الجنة "، فقالت امرأة : أو اثنان؟ قال: " أو اثنان". كان سهيل(4) يتشدد في الحديث ويحفظ، ولم يكن أحد يقدر أن يكتب عنده.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اﷲ ! ہم آپ کی مجلس میں حاضر نہیں ہو سکتے ، تو آپ ہمارے لیے الگ دن مقرر فرما دیں تاکہ اس دن ہم آپ کے پاس آ جائیں ۔ فرمایا : ”تمہارا مقرر وقت فلاں کے گھر ہے“ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کے ہاں گئے اور آپ نے کچھ ہدایت فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی : ”تم میں سے جس کے تین بچے مر جائیں اور وہ صبر کرے تو جنت میں جائے گی ۔“ ایک عورت نے کہا: اور دو بچے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور دو بچے بھی ۔“ اس روایت میں سہیل ہیں جو حدیث میں سختی کرتے تھے اور یاد کرتے تھے ، اور کوئی ان کے سامنے لکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا ۔