حدیث نمبر: 103
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبٌ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ، قَالَ : فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ وَتَصْدِيقُهَا الإِعْرَاضُ، وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ الْمَنْطِقُ، وَالْقَلْبُ زِنْيَتُهُ التَّمَنِّي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ بِمَا ثَمَّ أَوْ يُكَذِّبُ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم پر زنا کا کچھ حصہ مقرر کیا گیا ہے، جسے وہ بہرصورت پائے گا، آنکھ کا زنا (حرام چیز کو) دیکھنا ہے، اور اس کی تصدیق نظر ہٹا لینا ہے (اگر اس شخص نے اپنی پہلی نظر کے بعد اعراض کیا اور محرمات کو دیکھتے ہی اپنی نظروں کو جھکا لیا، تو یہ سچی نظر ہے وگرنہ نہیں)، زبان کا زنا (فحش) بات کا کہنا ہے، دل کا زنا تمنا اور خواہش کرنا ہے، اور شرمگاہ گناہ کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“