حدیث نمبر: 59
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ : اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ، وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ، قَالَ : فَذَهَبَ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا : وَعَلَيْكَ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَزَادُوا : وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَ : فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى الآنَ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ پیدا کر چکا تو اسے حکم دیا: جا، اس جماعت کو یعنی فرشتوں کی جماعت، جو وہاں بیٹھے تھے، انہیں سلام کرو اور جو کلمات تجھے سلام کے جواب میں کہیں انہیں غور سے سنو، اس لیے کہ وہ تیرا اور تیری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ گئے اور (ملائکہ کو) «السلام علیکم» کہا تو انہوں نے جواب میں «وعلیکم السلام ورحمة اللہ» کہا، فرشتوں نے (سلام کے جواب میں) «ورحمة اللہ» کا اضافہ کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا اس کی صورت آدم علیہ السلام کی صورت ہو گی، اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ ہو گی۔ تب سے اب تک (انسانی قد میں) مسلسل کمی واقع ہوتی رہی ہے۔“