کتب حدیث ›
صحيفه همام بن منبه › ابواب
› باب: نذر تقدیر کو نہیں ٹالتی ، البتہ نذر ماننے سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے
حدیث نمبر: 39
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدْ قَدَّرْتُهُ، وَلَكِنَّهُ يُلْفِيهِ النَّذْرُ وَقَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ، وَيُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ آتَانِي مِنْ قَبْلُ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کو ایسی چیز نہیں دیتی جو میں نے اس کے مقدر میں نہ لکھی ہو، بلکہ نذر اسے اس چیز سے ہمکنار کرتی ہے جو میں نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے۔ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکلواتا ہوں اور نذر کے باعث وہ مجھے اس قدر دیتا ہے، جتنا وہ مجھے نذر سے قبل نہیں دے سکتا تھا۔“