حدیث نمبر: 32
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمہیں چھوڑوں تم مجھے چھوڑ دو (یعنی جن مسائل سے بھی میں بےاعتنائی برتوں تو تم ان میں بےجا مداخلت نہ کرو)۔ بلاشبہ تم میں سے گزشتہ امتیں اپنے (بےجا) سوال کرنے اور انبیاء کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں۔ چنانچہ جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو تم اس سے اجتناب کرو، اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو تم حتیٰ المقدور اس کی تعمیل کرو۔“