حدیث نمبر: 52
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فَمَا لِيَ لا يَدْخُلُنِي إِلا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ : إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ : إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رِجْلَهُ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت اور دوزخ میں مباحثہ ہوا، دوزخ نے کہا: متکبر اور مغرور لوگوں کے سبب مجھے تجھ پر برتری حاصل ہے۔ جنت نے کہا: کیا ہے کہ میرے ہاں متکبرین کی بجائے ضعیف، گھٹیا اور سادہ لوح لوگ ہی داخل ہوتے ہیں؟ اس پر اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں، اپنی رحمت سے نوازتا ہوں، اور دوزخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب میں مبتلا کرتا ہوں، اور تم دونوں (کا اپنے پیمانے کے مطابق) بھرنا حقیقت ہے۔ البتہ دوزخ تب بھرے گی جب اللہ اپنا پاؤں اس میں رکھے گا۔ (جب اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں رکھے گا) تو دوزخ کہے گی: بس! بس! (لہٰذا) اس وقت وہ بھر جائے گی اور وہ سکڑ جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی (ایک) پر (بھی) ظلم نہیں کرے گا۔ اور رہا جنت کا بھرنا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک اور مخلوق پیدا کر دیں گے۔“