کتب حدیث ›
صحيفه همام بن منبه › ابواب
› باب: سیدنا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مباحثہ
حدیث نمبر: 46
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ فَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَى الأَرْضِ ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ، وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ كُتِبَ عَلَيَّ أَنْ أَفْعَلَ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُخْلَقَ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان جھگڑا ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہ آدم ہو جنہوں نے لوگوں کو بہکایا اور انہیں جنت سے نکلوا کر زمین کی طرف بھیج دیا؟ آدم علیہ السلام نے کہا: آپ وہ موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم عطا کیا اور رسالت کے سبب دوسرے لوگوں پر فضیلت بخشی؟ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: ہاں! (میں وہی ہوں)۔ اس پر آدم علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے اس عمل پر ملامت کرتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے قبل لکھ دیا تھا کہ ایسا کام کروں گا؟ اس طرح آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔“