حدیث نمبر: 99
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّيْخُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھا آدمی دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: اول: لمبی زندگی کی امید اور خواہش رکھنا، دوم: یہ کہ کثرت مال کی تمنا رکھنا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2338 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے: لمبی زندگی کی محبت، دوسرے مال کی محبت “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2338]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے: لمبی زندگی کی محبت، دوسرے مال کی محبت “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2338]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ بوڑھے کا دل لمبی عمرکی خواہش اورکثرت مال کی محبت سے سرشارہوتا ہے، یعنی بوڑھا ہونے کے باوجود اس کے اندرمال کی ہوس اورعمرکی زیادتی کی تمنایہ دونوں خواہشیں جوان ہوتی ہیں۔
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ بوڑھے کا دل لمبی عمرکی خواہش اورکثرت مال کی محبت سے سرشارہوتا ہے، یعنی بوڑھا ہونے کے باوجود اس کے اندرمال کی ہوس اورعمرکی زیادتی کی تمنایہ دونوں خواہشیں جوان ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2338 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1100 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1100- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بوڑھے آدمی کا دل بھی دوچیز وں کی محبت میں جوان ہوتا ہے مال کی محبت اور زندگی کی محبت۔“ سفیان نامی راوی نے (زندگی کے لیے) بعض اوقات لفظ عیش استعمال کیا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1100]
فائدہ:
اس حدیث میں بوڑھے آدمی کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان کا جسم اس کے جذبات بوڑھے ہونے کے باوجود مال اور زندگی سے محبت میں جوان ہوتا ہے، یعنی ان دونوں چیزوں کی محبت جوانی کی طرح بڑھاپے میں بھی ستاتی ہے، اور اس کا ہم مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ بوڑھے لوگوں کو مال سے بہت زیادہ محبت ہوتی ہے۔
اس حدیث میں بوڑھے آدمی کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان کا جسم اس کے جذبات بوڑھے ہونے کے باوجود مال اور زندگی سے محبت میں جوان ہوتا ہے، یعنی ان دونوں چیزوں کی محبت جوانی کی طرح بڑھاپے میں بھی ستاتی ہے، اور اس کا ہم مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ بوڑھے لوگوں کو مال سے بہت زیادہ محبت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1101 سے ماخوذ ہے۔