حدیث نمبر: 97
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُكْرِهَ الاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ فَاسْتَحَبَّاهَا، فَأَسْهِمْ بَيْنَهُمَا "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی قسم کھانے پر مجبور کیے جائیں اور وہ دونوں قسم کھانا پسند کرتے ہوں، تو ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3617 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں “ (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3617]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں “ (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3617]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یعنی جب دونوں ہی قسم نہ کھانا چاہیں تو قاضی یہ فیصلہ کرسکتا ہے۔
کہ قرعہ اندازی کی جائے جس کے نام کا قرعہ نکل آئے گا۔
اسے قسم کھانی ہوگی۔
یا پھر دستبردار ہوجائےگا۔
فائدہ: یعنی جب دونوں ہی قسم نہ کھانا چاہیں تو قاضی یہ فیصلہ کرسکتا ہے۔
کہ قرعہ اندازی کی جائے جس کے نام کا قرعہ نکل آئے گا۔
اسے قسم کھانی ہوگی۔
یا پھر دستبردار ہوجائےگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3617 سے ماخوذ ہے۔