حدیث نمبر: 96
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے کسی شخص کا قسم کی وجہ سے اپنے اہل و عیال سے ترک تعلقات پر اصرار کرنا، اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا کفارہ ادا کیا جائے، جو اللہ تعالیٰ نے اس پر لازم کیا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 96
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب الإيمان والنذور، باب قول الله تعالى ﴿لا يؤاخذكم الله باللغو فى أيمانكم﴾ رقم: 6625/26، حدثنا إسحاق بن إبراهيم: أخبرنا عبدالرزاق: أخبرنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا به أبو هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم .... - صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب النهى عن الإصرار على اليمين، فيما يتأذى به أهل الحالف مما ليس بحرام، رقم: 1655، حدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق بن همام: حدثنا معمر، عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة عن محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها وقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم .... - مسند أحمد: 88/16، 89، رقم: 99/8193 - مصنف عبدالرزاق، باب اليمين مما يصدقك صاحبك، رقم: 16036 - شرح السنة، كتاب الإيمان، باب من حلف على اليمين فرأى غيرها خيرا منها يتحلل ويكفر، رقم: 2437 - سنن الكبرىٰ، كتاب الإيمان، باب من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذى هو خير وليكفر عن يمينه: 32/10.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6625 | صحيح مسلم: 1655

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1655 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! تم میں سے کسی ایک کا اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کھا کر اس پر جم جانا یا اصرار کرنا، اللہ کے ہاں اس کے لیے اس سے زیادہ گناہ کا سبب ہے کہ وہ اس کا وہ کفارہ ادا کرے جو اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4291]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر ایک انسان کوئی ایسی قسم اٹھا لیتا ہے، جس پر اصرار کرنے یا اڑ جانے سے اس کے بیوی، بچوں کو اذیت و تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اور وہ کام کرنا معصیت یا گناہ نہیں ہے، اگر وہ تصور کر کے قسم پر اصرار کرتا ہے کہ قسم توڑنا گناہ ہے، تو یہ محض اس کا نظریہ اور خیال ہے، گناہ تو ایسی صورت میں قسم پر اڑنا ہے نہ کہ قسم توڑنا، یہاں آثم اسم تفضیل کا صیغہ اس کے تصور کے اعتبار سے لایا گیا ہے، کیونکہ وہ قسم توڑنا گناہ سمجھتا ہے، یا علي سبيل التنزل ہے کہ اگر بالفرض قسم توڑنا گناہ ہے، تو گھر والوں کو اذیت و تکلیف پہنچانا اس سے بڑھ کر گناہ ہے، اور قسم کا تو کفارہ دے کر گناہ سے بچا جا سکتا ہے، ان کی تکلیف و اذیت کو رفع کرنے کی کیا صورت ہو گی اور اسم تفضیل کو اضافہ و زیادتی سے مجرد بھی کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ اصرار اس کے لیے گناہ کا باعث ہے، اور اہل کا لفظ عموم کے اعتبار سے ہے، وگرنہ کسی کو تکلیف و اذیت پہنچانے والی قسم پر اصرار کرنا، اس بنیاد پر کہ میں نے قسم کھا لی ہے، میں اس کو توڑ نہیں سکتا، درست نہیں ہے، اس کو قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔
قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا یا انہیں لباس پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر ان تینوں کاموں میں سے کوئی بھی کام نہ کر سکتا ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنا ہے۔
(سورہ المائدہ، آیت نمبر 89)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1655 سے ماخوذ ہے۔