حدیث نمبر: 96
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے کسی شخص کا قسم کی وجہ سے اپنے اہل و عیال سے ترک تعلقات پر اصرار کرنا، اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا کفارہ ادا کیا جائے، جو اللہ تعالیٰ نے اس پر لازم کیا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1655 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! تم میں سے کسی ایک کا اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کھا کر اس پر جم جانا یا اصرار کرنا، اللہ کے ہاں اس کے لیے اس سے زیادہ گناہ کا سبب ہے کہ وہ اس کا وہ کفارہ ادا کرے جو اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4291]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر ایک انسان کوئی ایسی قسم اٹھا لیتا ہے، جس پر اصرار کرنے یا اڑ جانے سے اس کے بیوی، بچوں کو اذیت و تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اور وہ کام کرنا معصیت یا گناہ نہیں ہے، اگر وہ تصور کر کے قسم پر اصرار کرتا ہے کہ قسم توڑنا گناہ ہے، تو یہ محض اس کا نظریہ اور خیال ہے، گناہ تو ایسی صورت میں قسم پر اڑنا ہے نہ کہ قسم توڑنا، یہاں آثم اسم تفضیل کا صیغہ اس کے تصور کے اعتبار سے لایا گیا ہے، کیونکہ وہ قسم توڑنا گناہ سمجھتا ہے، یا علي سبيل التنزل ہے کہ اگر بالفرض قسم توڑنا گناہ ہے، تو گھر والوں کو اذیت و تکلیف پہنچانا اس سے بڑھ کر گناہ ہے، اور قسم کا تو کفارہ دے کر گناہ سے بچا جا سکتا ہے، ان کی تکلیف و اذیت کو رفع کرنے کی کیا صورت ہو گی اور اسم تفضیل کو اضافہ و زیادتی سے مجرد بھی کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ اصرار اس کے لیے گناہ کا باعث ہے، اور اہل کا لفظ عموم کے اعتبار سے ہے، وگرنہ کسی کو تکلیف و اذیت پہنچانے والی قسم پر اصرار کرنا، اس بنیاد پر کہ میں نے قسم کھا لی ہے، میں اس کو توڑ نہیں سکتا، درست نہیں ہے، اس کو قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔
قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا یا انہیں لباس پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر ان تینوں کاموں میں سے کوئی بھی کام نہ کر سکتا ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنا ہے۔
(سورہ المائدہ، آیت نمبر 89)
قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا یا انہیں لباس پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر ان تینوں کاموں میں سے کوئی بھی کام نہ کر سکتا ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنا ہے۔
(سورہ المائدہ، آیت نمبر 89)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1655 سے ماخوذ ہے۔