حدیث نمبر: 94
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا لآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأُلْقِيهَا "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جب اپنے گھر لوٹتا ہوں تو وہاں میں اپنے بستر پر (اپنے گھر میں) پڑی ہوئی کھجور پاتا ہوں اور اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں پھر اس خدشہ سے کہ یہ کھجور صدقہ کی ہو، اسے پھینک دیتا ہوں۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 94
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب اللقطة، باب إذا وجد تمرة فى الطريق، رقم: 2432، حدثنا محمد بن مقاتل: أخبرنا عبدالله، أخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى قال: .... - صحيح مسلم، كتاب الزكوٰة، باب تحريم الزكوٰة على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى آله وهم بنو هاشم وبنو المطلب، رقم: 1069/163، حدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق بن همام: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبوهريرة عن محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها وقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: .... - مصنف عبدالرزاق: 52/4، كتاب الزكوٰة، باب لا تحل الصدقة لآل محمد صلى الله عليه وسلم، رقم: 6944 - شرح السنة، كتاب الزكوٰة، باب تحريم الصدقة على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى أهل بيته: 99/6، 100 - مسند أحمد: 88/16، رقم: 97/8191.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2432 | صحيح مسلم: 1070

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2432 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2432. حضرت انس ؓ اورحضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب میں اپنے گھر آتا ہوں تو اپنے بستر پر گری پڑی کھجور پاتا ہوں، اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں پھر اس اندیشے کے پیش نظر کہ یہ صدقہ ہوگی اسے پھینک دیتا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2432]
حدیث حاشیہ:
(1)
معلوم ہوا کہ معمولی چیز اگر راستے یا گھر سے ملے تو اسے کھا لینا درست ہے۔
اس قسم کی چیزوں کے مالک کو تلاش کرنا اور اس کے متعلق تشہیر کرنا ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اس قسم کی کھجور سے پرہیز کیا تو اس لیے نہیں کہ اس پر لقطہ کے احکام جاری ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ شاید صدقے کی ہو اور صدقہ آپ پر حرام تھا۔
(2)
حضرت میمونہ ؓ نے ایک گری پڑی کھجور دیکھی تو اسے اٹھا کر کھا لیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔
‘‘ (المصنف لعبد الرزاق: 144/10)
اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اگر حضرت میمونہ ؓ اسے نظرانداز کر دیتیں اور اسے کوئی نہ اٹھاتا تو وہ پڑی پڑی خراب ہو جاتی۔
اس طرح بلاوجہ کسی چیز کو خراب کرنا اللہ کو پسند نہیں، اس لیے انہوں نے اس کھجور کو اٹھا کر کھا لیا۔
(فتح الباري: 107/5)
مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک انار راستے میں پڑا ہوا پایا تو اسے اٹھا کر کھا لیا۔
(المصنف لعبد الرزاق: 143/10)
اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ نے ایک کھجور گری پڑی دیکھی تو اس کے دو حصے کر دیے، ایک خود کھا لیا اور دوسرا حصہ ایک مسکین کو کھلا دیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 416/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2432 سے ماخوذ ہے۔