حدیث نمبر: 94
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا لآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأُلْقِيهَا "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جب اپنے گھر لوٹتا ہوں تو وہاں میں اپنے بستر پر (اپنے گھر میں) پڑی ہوئی کھجور پاتا ہوں اور اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں پھر اس خدشہ سے کہ یہ کھجور صدقہ کی ہو، اسے پھینک دیتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2432 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2432. حضرت انس ؓ اورحضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب میں اپنے گھر آتا ہوں تو اپنے بستر پر گری پڑی کھجور پاتا ہوں، اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں پھر اس اندیشے کے پیش نظر کہ یہ صدقہ ہوگی اسے پھینک دیتا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2432]
حدیث حاشیہ:
(1)
معلوم ہوا کہ معمولی چیز اگر راستے یا گھر سے ملے تو اسے کھا لینا درست ہے۔
اس قسم کی چیزوں کے مالک کو تلاش کرنا اور اس کے متعلق تشہیر کرنا ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اس قسم کی کھجور سے پرہیز کیا تو اس لیے نہیں کہ اس پر لقطہ کے احکام جاری ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ شاید صدقے کی ہو اور صدقہ آپ پر حرام تھا۔
(2)
حضرت میمونہ ؓ نے ایک گری پڑی کھجور دیکھی تو اسے اٹھا کر کھا لیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔
‘‘ (المصنف لعبد الرزاق: 144/10)
اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اگر حضرت میمونہ ؓ اسے نظرانداز کر دیتیں اور اسے کوئی نہ اٹھاتا تو وہ پڑی پڑی خراب ہو جاتی۔
اس طرح بلاوجہ کسی چیز کو خراب کرنا اللہ کو پسند نہیں، اس لیے انہوں نے اس کھجور کو اٹھا کر کھا لیا۔
(فتح الباري: 107/5)
مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک انار راستے میں پڑا ہوا پایا تو اسے اٹھا کر کھا لیا۔
(المصنف لعبد الرزاق: 143/10)
اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ نے ایک کھجور گری پڑی دیکھی تو اس کے دو حصے کر دیے، ایک خود کھا لیا اور دوسرا حصہ ایک مسکین کو کھلا دیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 416/4)
(1)
معلوم ہوا کہ معمولی چیز اگر راستے یا گھر سے ملے تو اسے کھا لینا درست ہے۔
اس قسم کی چیزوں کے مالک کو تلاش کرنا اور اس کے متعلق تشہیر کرنا ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اس قسم کی کھجور سے پرہیز کیا تو اس لیے نہیں کہ اس پر لقطہ کے احکام جاری ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ شاید صدقے کی ہو اور صدقہ آپ پر حرام تھا۔
(2)
حضرت میمونہ ؓ نے ایک گری پڑی کھجور دیکھی تو اسے اٹھا کر کھا لیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔
‘‘ (المصنف لعبد الرزاق: 144/10)
اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اگر حضرت میمونہ ؓ اسے نظرانداز کر دیتیں اور اسے کوئی نہ اٹھاتا تو وہ پڑی پڑی خراب ہو جاتی۔
اس طرح بلاوجہ کسی چیز کو خراب کرنا اللہ کو پسند نہیں، اس لیے انہوں نے اس کھجور کو اٹھا کر کھا لیا۔
(فتح الباري: 107/5)
مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک انار راستے میں پڑا ہوا پایا تو اسے اٹھا کر کھا لیا۔
(المصنف لعبد الرزاق: 143/10)
اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ نے ایک کھجور گری پڑی دیکھی تو اس کے دو حصے کر دیے، ایک خود کھا لیا اور دوسرا حصہ ایک مسکین کو کھلا دیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 416/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2432 سے ماخوذ ہے۔