حدیث نمبر: 85
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَقُلْ أَحَدُكُمُ : اسْقِ رَبَّكَ أَوْ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : رَبِّي، وَلْيَقُلْ : سَيِّدِي وَمَوْلايَ، وَلا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي، أَمَتِي، وَلْيَقُلْ : فَتَايَ، فَتَاتِي غُلامِي "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اپنے ’’رب‘‘ کو پلاؤ، اپنے رب کو کھانا کھلاؤ یا اپنے رب کو وضو کراؤ، اور نہ کوئی (اپنے آقا کو) میرا ’’رب‘‘ کہ کر پکارے بلکہ وہ (اپنے آقا کو) ’’سیدی و مولای‘‘ میرا سردار، میرا مولا کہہ کر پکارے۔ کسی کے لیے ’’عبدی‘‘ میرا بندہ، یا ’’امتی‘‘ میری بندی کہنا ٹھیک نہیں، بلکہ اسے چاہیے وہ یوں کہے: ’’غلامی‘‘ میرا نوکر، میری نوکرانی، میرا غلام۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 85
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب العتق، باب كراهية التطاول على الرقيق، رقم: 2552، حدثنا محمد: حدثنا عبدالرزاق: أخبرنا معمر عن همام بن منبه، انه سمع أبا هريرة رضى الله عنه يحدث عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال .... - صحيح مسلم، كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها، باب حكم إطلاق لفظة العبد والأمة والمولٰى والسيد، رقم: 2249/15، حدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم .... - مسند أحمد: 83/16، رقم: 88/8182 - سنن الكبرىٰ: 13/8، كتاب النفقات، باب ما ينادى به كل واحد منهما صاحبه - مصنف عبدالرزاق: 45/11، كتاب الجامع، باب لايقال أحد ربي ولا ربتي، رقم: 19869.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2552 | صحيح مسلم: 2249 | سنن ابي داود: 4975

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2552 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2552. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ تو اپنے رب (مالک) کوکھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کوپانی پلا بلکہ یوں کہے: اے میرے سردار!اے میرے آقا! اور کوئی تم میں سے یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہے: میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2552]
حدیث حاشیہ: رب کا لفظ کہنے سے منع فرمایا۔
اسی طرح بندہ بندی کا تاکہ شرک کا شبہ نہ ہو، گو ایسا کہنا مکروہ ہے حرام نہیں جیسے قرآن میں ہے ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
بعضوں نے کہا پکارتے وقت اس طرح پکارنا منع ہے۔
غرض مجازی معنی جب مراد لیا جائے غایت درجہ یہ فعل مکروہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ علماءنے عبدالنبی یا عبدالحسین ایسے ناموں کا رکھنا مکروہ سمجھا ہے اور ایسے ناموں کا رکھنا شرک اس معنی پر کہا ہے کہ ان میں شرک کا ایہام یا شائبہ ہے۔
اگر حقیقی معنی مراد ہو تو بے شک شرک ہے۔
اگر مجازی معنی مراد ہو تو شرک نہ ہوگا مگر کراہیت میں شک نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں۔
کیوں کہ جہاں شرک کا وہم ہو وہاں سے بہر حال پرہیز بہتر ہے۔
خاص طور پر لفظ ''عبد '' ایسا ہے جس کی اضافت لفظ اللہ یا رحمن یا رحیم وغیرہ اسماءالحسنی ہی کی طرف مناسب ہے۔
توحید و سنت کے پیروکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ غیراللہ کی طرف ہرگز اپنی عبدیت کو منسوب نہ کریں۔
إیاک نعبد کا یہی تقاضا ہے۔
واللہ هو الموفق
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2552 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2552. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ تو اپنے رب (مالک) کوکھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کوپانی پلا بلکہ یوں کہے: اے میرے سردار!اے میرے آقا! اور کوئی تم میں سے یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہے: میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2552]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس لفظ کا استعمال اس لیے منع ہے کہ حقیقی ربوبیت تو صرف اللہ کو لائق ہے، لہذا یہ لفظ مخلوق میں سے کسی کے لیے استعمال نہ کیا جائے لیکن قرآن کریم میں اضافت کے ساتھ یہ لفظ غیراللہ کے لیے استعمال ہوا ہے جیسا کہ ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
جس سے معلوم ہوا کہ حدیث میں نہی تحریمی نہیں۔
واللہ أعلم (2)
امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ اگر عبدي اور أمتي کے الفاظ میں بد اخلاقی اور تکبر پایا گیا تو ان کا استعمال مکروہ ہے اور اگر محض تعریف مراد ہو تو یہ الفاظ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 223/5)
بہرحال آقا کو چاہیے کہ وہ اپنے غلام اور لونڈی کو پکارتے وقت فخر اور غرور سے پرہیز کرے، اسی طرح غلام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آقا کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جن میں اللہ کی تعظیم جیسا اظہار ہو۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2249 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی یہ نہ کہے، میرا بندہ، میری باندی، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری ساری عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں، لیکن یہ کہو، میرا غلام، میری لونڈی، میرا نوکر، میری خادمہ۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5874]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
عبيد: عبد کی جمع ہے، بندہ، اماء، امة کی جمع ہے، باندی۔
فوائد ومسائل: حدیث کا مقصد، انسان کو کبر و نخوت اور تکبر و بڑائی کے غرہ میں مبتلا ہونے سے بچانا ہے اور اس کے اندر، تواضع، فروتنی، عجز و نیاز پیدا کرنا ہے، اس لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے، جو انسان کے اندر احساس تفوق اور برتری پیدا کر سکتے ہیں، جن کے نتیجہ میں اس کے اندر نخوت اور گھمنڈ یا خود پسندی کا جذبہ اُبھر سکتا ہے، اس لیے انسان کو خود، اپنے غلام اور لونڈی کو میرا غلام، میری لونڈی نہیں کہنا چاہیے، ہاں خود غلام اور لونڈی یہ کہہ سکتے ہیں، أنا عبدك، میں تیرا غلام ہوں، أنا اَمَتُك، میں تیری باندی ہوں اور دوسرے کہہ سکتے ہیں، عَبَدُكَ أَمَتُك، تیرا غلام، تیری لونڈی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2249 سے ماخوذ ہے۔