حدیث نمبر: 84
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَكُمُ الصَّانِعُ بِطَعَامِكُمْ قَدْ أَغْنَى عَنْكُمْ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَادْعُوهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَكُمْ، وَإِلا فَأَلْقِمُوهُ فِي يَدِهِ أَوْ لِيُنَاوِلْهُ فِي يَدِهِ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب باورچی تمہارے پاس کھانا لائے، جس نے تمہیں کھانے کی تپش اور اس کے دھوئیں سے مستغنی کیا ہے، تو اسے دعوت دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا تناول کرے ورنہ اس کے ہاتھ میں چند لقمے تھما دو۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 84
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب الأطعمة، باب الأكل مع الخادم: 5460 - صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب إطعام المملوك مما يأكل، وإلباسه مما يلبس، ولا يكلفه ما يغلبه، رقم: 1663/42 - مسند أحمد: 82/16، رقم: 87/8181، حدثنا عبدالرزاق بن همام: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا به أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2557 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2557. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کے پاس اس کاخادم کھانا لے کر آئے تو اگر اسے اپنے ساتھ (کھلانے کے لیے) نہ بٹھا سکے تو اس کوایک یادو لقمے ضرور کھلادے، یا آپ ﷺ نے (لقمة اور لقمتين کے بجائے) أكلة أو أكلتين فرمایا۔ کیونکہ اس نے اس (کو تیار کرنے) کی زحمت اٹھائی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2557]
حدیث حاشیہ: لفظ خادم میں غلام، نوکر چاکر، شاگرد سب داخل ہو سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2557 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2557 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2557. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کے پاس اس کاخادم کھانا لے کر آئے تو اگر اسے اپنے ساتھ (کھلانے کے لیے) نہ بٹھا سکے تو اس کوایک یادو لقمے ضرور کھلادے، یا آپ ﷺ نے (لقمة اور لقمتين کے بجائے) أكلة أو أكلتين فرمایا۔ کیونکہ اس نے اس (کو تیار کرنے) کی زحمت اٹھائی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2557]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں مکارم اخلاق کی تعلیم و ترغیب ہے۔
جب کوئی شخص کھانا تیار کرے تو اسے محنت کا پھل دینا چاہیے کیونکہ اس نے آگ کی گرمی اور دھواں وغیرہ برداشت کیا ہے۔
خادم کو اپنے ساتھ بٹھانے کا حکم استحباب کے طور پر ہے۔
اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک یا دو لقمے اسے ضرور دینے چاہئیں، نیز لفظ خادم میں نوکر چاکر اور شاگرد وغیرہ سب شامل ہو سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2557 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5460 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5460. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے جب کسی کے پاس اس کا خادم کھانا پکا کر لائے اگر اسے اپنے ساتھ بٹھا کر نہیں کھلا سکتا تو ایک یا دو لقمے اسے دے دے کیونکہ اس نے پکاتے وقت گرمی اور مشقت برداشت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5460]
حدیث حاشیہ:
خادم کھانا پکاتے وقت اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرتا ہے، اس لیے اسے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلانا چاہیے۔
اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسے ایک یا دو لقمے دے دیے جائیں تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو۔
ایک روایت میں ہے کہ خادم کو اپنے ساتھ بٹھائے۔
اگر وہ نہیں بیٹھتا تو ایک یا دو لقمے اسے دے دے۔
ایک یا دو لقمے اس صورت میں دیے جائیں جب کھانا کم ہو۔
اگر زیادہ ہو تو اسے ساتھ بٹھایا جائے یا اس کا حصہ الگ کر دیا جائے۔
(سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3846، و فتح الباري: 720/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5460 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1663 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے، پھر وہ اس کے سامنے پیش کرے اور وہ اس کے پکانے اور تیار کرنے میں، اس کی گرمی اور دھواں برداشت کر چکا ہے، تو آقا کو چاہیے اسے اپنے ساتھ بٹھائے، تاکہ وہ بھی ساتھ کھا سکے، اگر (کبھی) وہ کھانا کم ہو اور دونوں کے لیے کافی نہ ہو سکے، تو وہ اس کے ہاتھ میں اس سے ایک دو نوالے دے دے۔‘‘ راوی داؤد معنی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4317]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مَشفُوهاً: جس پر بہت سے ہونٹ گزرے ہوں، اس لیے راوی نے اس کی تفسیر قلیل تھوڑے سے کی ہے۔
(2)
أُكلَةً أَو أُكلَتَينِ: ایک دو لقمے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوا، اگر کھانا وافر ہو، تو خادم کو ساتھ کھلائے یا ضرورت کے مطابق دے، اور کسی وجہ سے کھانا کم ہو، تو پھر کچھ نہ کچھ ضرور دے تاکہ خادم کی نظر ہوس یا للچائی نظر سے محفوظ رہے، اور اس کے دل میں حسد و کدورت یا خیانت کا جذبہ نہ ابھرے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1663 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3846 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مالک کے ساتھ خادم کے کھانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3846]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
: غلاموں اور خادموں کے ساتھ حسن معاملہ اور ان کی ہر ممکن دلجوئی اسلامی تہذیب وثقافت کا حصہ ہے۔
ان کا دل توڑنا ان کو حقیر سمجھنا یا ان کی تحقیر کرنا بہت بڑا عیب ہے۔
اور شرعا بھی درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3846 سے ماخوذ ہے۔