قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ : خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الَّذِي شَرَى الأَرْضَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا، فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : لِي غُلامٌ، وَقَالَ الآخَرُ : لِي جَارِيَةٌ، فَقَالَ : أَنْكِحِ الْغُلامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا "اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کسی (دوسرے شخص) سے زمین خریدی اور خریدار کو اس زمین سے سونے کا گھڑا ملا، چناچہ خریدار نے مالک زمین سے کہا: آپ اپنا سونا مجھ سے لے لیں، کیونکہ میں نے آپ سے زمین خریدی تھی، سونا نہیں خریدا تھا۔ اس پر (مالک) زمین بیچنے والے نے کہا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا (سب) آپ کو فروخت کیا تھا۔ پھر وہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے کر گئے۔ اس فیصل نے ان سے پوچھا: تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا لڑکا ہے۔ اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ فیصل نے کہا: ان دونوں کی آپس میں شادی کر دو اور تم دونوں سونے میں سے کچھ حصہ اپنے اور ان کے اوپر خرچ کرو اور کچھ صدقہ کر دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ بہت محتاط اور پرہیز گار تھے۔
البتہ ہمارے اس پر آشوب دور میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔
معمولی معمولی چیز میں بددیانتی کرتے ہیں اور لوگوں کے مال غصب کرنے میں فخر کرتے ہیں۔
2۔
ہماری شریعت میں ایسے مال کے متعلق یہ تفصیل ہے کہ اگر قرائن سے معلوم ہو جائے کہ وہ دور جاہلیت کا مدفون خزانہ ہے تو وہ رکازہے اور اس سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کرنا ہوگا۔
اگر وہ مال دور اسلام کا ہے تو وہ لقطے کے حکم میں ہو گا اور اگر پتہ نہ چل سکے تو تمام مال بیت المال میں جمع کردیا جائے جو مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات میں صرف کیا جائے گا۔
3۔
بعض حضرات کا موقف ہے کہ جو کوئی زمین کا مالک ہو جائے تو وہ عطا کردہ باطن کی ہر چیز کا مالک ہو جاتا ہے اور زمین کا مالک بنتے وقت اگر اسے زمین کے باطن میں کسی چیز کا علم نہ ہو تو یہ اس کی ملکیت کو ساقط نہیں کرتا۔
کچھ حضرات کہتے ہیں کہ اگر کوئی زمین بیچے پھر اس میں سے خزانہ نکل آئے تو وہ بیچنے والے کا ہو گا جیسا کہ گھر بیچنے کی صورت میں اس کا مال واسباب بیچنے والے کا ہوتا ہے ہاں اگر خریدنے والا شرط کر لے تو دوسری بات ہے۔
واللہ أعلم۔
(تکملہ ج 2 ص 603)
لیکن امام ابن قدامہ نے لکھا ہے، اگر دو انسان کسی کو صحیح حکم تسلیم کرتے ہیں اور وہ اس کی اہلیت رکھتا ہے تو اس کا فیصلہ نافذ العمل ہو گا، امام ابو حنیفہ کا موقف بھی یہی ہے اور امام شافعی کا ایک قول یہ ہے کہ وہ مطمئن ہوں تو نافذ ہو گا، وگرنہ نہیں، المغنی، ج 14، ص 92۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع (بیچنے والے) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی ش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2511]
فوائد و مسائل:
(1)
سابقہ امتوں کے واقعات بطور عبرت ونصیحت بیان کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ قرآن مجید یا صحیح احادیث سےثابت ہوں، ضعیف من گھڑٹ اورموضوع روایات سے وعظہ وخطبات کومزین کرنا جائز نہیں۔
(2)
گزشتہ امتوں کے شرعی مسائل میں سے صرف ان مسائل پرعمل کیا جا سکتا ہےجو ہماری شریعت کےمنافی نہ ہوں۔
(3)
خرید و فروخت میں دیانت داری اورایک دوسرے کی خیر خواہی باعث برکت ہے۔
(4)
اختلافی معاملے میں ایسی صورت اختیار کرلینا بہت اچھی بات ہے جس پر دونوں فریق راضی ہوں۔
(5)
مدفون خزانہ اس شخص کی جائز ملکیت ہے جسے وہ ملے بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کس نے دفن کیا تھا۔
(6)
مدفون خزانہ پورے کا پورا اپنی ذات پرخرچ نہیں کرنا چاہیے۔
ہماری شریعت میں اس کےلیے پانچویں حصے کی حد مقرر ہے یعنی بیس فی صد بطور زکاۃ ادا کرکے باقی ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔