حدیث نمبر: 65
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ، خُسِفَ بِهِ الأَرْضُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص دو چادروں میں اتراتا ہوا چل رہا تھا، اور خود پسندی میں مبتلا ہوا، تو (بحکم الٰہی) وہ زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ (اسی طرح) روز قیامت تک رہے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5789 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5789. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کے نبی ﷺ نے فرمایا:۔۔۔ یا (کہا کہ) حضرت ابو القاسم ﷺ نے فرمایا:۔۔۔۔۔ ایک آدمی جوڑا پہنے ہوئے اور اپنے بالوں میں کنگھی کر کے فخر وغرور سے چل رہا تھا کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا ”وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5789]
حدیث حاشیہ: یہ قارون یا ہیزن فارس کا رہنے والا شخص تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5789 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2088 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس دوران کہ ایک آدمی چل رہا تھا اور اپنے کندھوں پر پڑنے والے بالوں اور اپنی دونوں چادروں پر اترا رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
جمة: سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل: وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل: بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
(1)
جمة: سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل: وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل: بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2088 سے ماخوذ ہے۔