حدیث نمبر: 55
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَقَيْدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ لَهُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جنت میں تم میں سے کسی ایک کو کوڑا (چابک) رکھنے کی جگہ اس کے لیے آسمان و زمین کے درمیان تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 55
تخریج حدیث «مسند أحمد: 62/16، رقم: 56/8152، حدثنا عبدالرزاق بن همام: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا به أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: .... - مصنف عبدالرزاق، باب الجنة وصفتها، رقم 20885 - شرح السنة: 207/15، باب صفة الجنة وأهلها، وما أعد للصالحين فيها.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2793 | سنن ترمذي: 3013

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3013 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3013]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بے شک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے‘‘ (آل عمران: 185)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3013 سے ماخوذ ہے۔