حدیث نمبر: 129
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذِهِ الشَّأْنِ أُرَاهُ يَعْنِي الإِمَارَةَ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ لوگ اس معاملہ یعنی امارت میں قریش کے تابع ہیں۔ مسلمان، مسلمان قریشیوں کے اور کافر، کافر قریشیوں کے تابع ہیں۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 129
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب المناقب، باب قول الله تعالٰى ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ...﴾ ، رقم: 3495 - صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب الناس تبع لقريش والخلافة فى القريش، رقم: 1818/1، 1818/2، 1821/5، 1821/6، 1821/7، 1821/8، وحدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: .... - مسند أحمد: 105/16، رقم: 133/8226 - مصنف عبدالرزاق، كتاب الجامع، فضائل قريش، رقم: 19895 - شرح السنة، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب قريش، رقم: 3847.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3496 | صحيح مسلم: 1818

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3496 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3496. (نیز آپ نے فرمایا:) ’’انسان کی مثال کان کی طرح ہے۔ جولوگ دور جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی قابل تعریف ہیں بشرط یہ کہ انھوں نے دینی معاملات میں سمجھ بوجھ حاصل کی ہو۔ تم دیکھو کہ حکومت اور سرداری کے لائق وہی ہوں گے جو شان امارت کو سخت ناپسند کرنے والے ہوں گے یہاں تک کہ ان پر اس کا بوجھ آپڑے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3496]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ اسلام میں شرافت کی بنیاد دینی علوم اور ان میں فقاہت حاصل کرنا ہے جو مسلمان عالم دین اور فقیہ ہوں وہی عنداللہ شریف ہیں، دینی فقاہت سے کتاب وسنت کی فقاہت مرادہے، رائے و قیا س کی فقاہت محض ابلیسی طریق کار ہے۔
اولاد آدم کے لیے کتاب وسنت کے ہوتے ہوئے ابلیسی طریق کار کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3496 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3496 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3496. (نیز آپ نے فرمایا:) ’’انسان کی مثال کان کی طرح ہے۔ جولوگ دور جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی قابل تعریف ہیں بشرط یہ کہ انھوں نے دینی معاملات میں سمجھ بوجھ حاصل کی ہو۔ تم دیکھو کہ حکومت اور سرداری کے لائق وہی ہوں گے جو شان امارت کو سخت ناپسند کرنے والے ہوں گے یہاں تک کہ ان پر اس کا بوجھ آپڑے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3496]
حدیث حاشیہ:

قریش نسب کے اعتبار سے بلند مرتبہ اور مکان کے اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھتے تھے، نیز قبائل عرب، مجاور حرم ہونے کی وجہ سے ان کی بہت تعظیم کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تواکثرعرب انتظار میں تھے کہ آپ کی قوم، یعنی قریش آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں۔
جب فتح مکہ ہوا اور قریش مسلمان ہوگئے تو لوگ بھی فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔
چونکہ قریش کودیگر قبائل عرب پر فضیلت حاصل ہے اور وہ امامت و امارت میں تمام عرب پر سبقت رکھتے ہیں، لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان کے پیچھے چلیں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کریں۔
مطلب یہ ہے کہ قریش کی شان وشوکت جودور جاہلیت میں تھی، اسلام اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسلام لانے کے بعدسردار ہی رہیں گے جیسے وہ زمانہ کفر میں قائدین تھے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے: یہ خبر امر(حکم)
کے معنی میں ہے، چنانچہ دوسری روایت میں ہے کہ قریش کو آگے کرو اور ان سے آگے مت بڑھو، جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خبر اپنے ظاہر معنی پر ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 649/6)

اس حدیث کے آخری جملے کے معنی متعین کرنے میں بھی اختلاف ہے: بعض نے کہا ہے کہ جو شخص امارت کا حریص نہ ہو اور سوال کے بغیر اگر اسے حاصل ہوجائے تو اس سے کراہت زائل ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے گا۔
بعض نے کہاہے کہ جب امارت سپرد ہوجائے گی تو پھر اس سے کراہت کرنا جائز نہیں۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 6/648)

اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شرافت نسبی، علم کے بغیر عزت و احترام کے لائق نہیں۔
اصل شرافت تو علم دین حاصل کرنے سے ملتی ہے، پھر دینی معاملات میں رائے زنی کرنا نری جہالت ہے۔
جومسلمان عالم دین اور فقیہ ہوں وہی عنداللہ شریف ہیں۔
دینی فقاہت سے مراد کتاب و سنت کی فقاہت ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3496 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1818 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حکومت اور اقتدار کا معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان لوگ، مسلمان قریشیوں اور کافر لوگ کافر قریشیوں کے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4701]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث اور اس باب کی دوسری حدیث سے یہ بات باکل واضح طور پر ثابت ہوتی ہے، کہ خلافت قریش کے ساتھ مختص ہے، قریش جاہلیت اور کفر کے دور میں بھی لوگوں کے سردار تھے، حتیٰ کہ اسلام لانے میں بھی لوگ ان کے منتظر تھے، جب مکہ فتح ہوگیا اور قریش مسلمان ہوگئے، تو لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوگئے اور مسلمانوں میں حقیقی خلافت، جس میں اسلام کو غلبہ تھا اور مسلمانوں کو عزت واحترام حاصل تھا اور تمام مسلمان ایک خلیفہ کی رعایا تھے، اس وقت تک قائم رہی جب تک خلیفہ قریشی تھا اور جب قریش کے پاس حقیقی خلافت نہ رہی، محض نام کی خلافت رہی یا ان سے خلافت نکل گئی، تو حقیقی خلافت والی برکات و خیرات بھی ختم ہوگئیں اور مسلمانوں کی بے شمار کمزور حکومتیں قائم ہوگئیں اور ان کی عزت و وقار ملیامٹ ہوگیا، جس کا آج ہم کھلی آنکھوں مشاہدہ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے متحد ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی اور اسلام کے نام سے غیر اسلامی امور رواج پذیر ہیں اور ہر جگہ اقتدار کے سلسلہ میں رسہ کشی ہے، اگر دینی تقاضا پر عمل پیرا ہوتے مسلمان قریشی کو حقیقی خلیفہ بناتے تو مسلمان اس حالت زار میں گرفتار نہ ہوتے، اس لیے امام نوی، قاضی عیاض وغیر ھمانے خلیفہ کے قریشی ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور اگر آج اس بات کو نظر انداز کیا گیا ہے، تو یہ اس طرح جس طرح دوسری دینی باتوں کو نظر انداز کر دیا ہے، حتیٰ کہ نماز جیسی بنیادی عبادت جس پر کفر اور اسلام کامدار ہے، اس کی بھی اہمیت نہیں رہی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1818 سے ماخوذ ہے۔