صحيفه همام بن منبه
متفرق— متفرق
باب: دعا عزم مصمم کے ساتھ کرو یہ مت کہو کہ اے اللہ! تو چاہے تو بخش دے
حدیث نمبر: 123
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَقُلْ أَحَدُكُمُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، أَوِ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، أَوِ ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لا مُكْرِهَ لَهُ "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس انداز سے دعا نہ کرے کہ ’’اے اللہ! اگر تو چاہے مجھے بخش دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، یا اگر تو چاہے تو مجھے رزق دے۔‘‘ بلکہ وہ پورے یقین کے ساتھ مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے، اس پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6339 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6339. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص یوں نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما بلکہ اسے یقین اسے یقین کے ساتھ دعا کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6339]
حدیث حاشیہ:
1)
دعا کرتے وقت مسکینی اور عاجزی کا اظہار ہونا چاہیے، نیز اللہ تعالیٰ سے مکمل یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
دعا کرتے وقت یہ نہ کہا جائے کہ اللہ اگر تو چاہے تو دے دے بلکہ یہ کہے کہ یا اللہ! تجھی سے لینا ہے کیونکہ انسان تو اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مالک دو جہاں ہے، اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے، اس لیے یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
(2)
بہرحال دعا مانگنے کا یہ ادب ہے کہ پوری دل جمعی، نہایت خشوع و خضوع اور قبولیت کے یقین کامل کے ساتھ دعا کی جائے۔
واللہ أعلم
1)
دعا کرتے وقت مسکینی اور عاجزی کا اظہار ہونا چاہیے، نیز اللہ تعالیٰ سے مکمل یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
دعا کرتے وقت یہ نہ کہا جائے کہ اللہ اگر تو چاہے تو دے دے بلکہ یہ کہے کہ یا اللہ! تجھی سے لینا ہے کیونکہ انسان تو اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مالک دو جہاں ہے، اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے، اس لیے یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
(2)
بہرحال دعا مانگنے کا یہ ادب ہے کہ پوری دل جمعی، نہایت خشوع و خضوع اور قبولیت کے یقین کامل کے ساتھ دعا کی جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6339 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7477 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7477. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: ”تم میں سے کوئی ان الفاظ میں دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما، بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ عزم اور پختگی کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7477]
حدیث حاشیہ:
دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں:۔
مشیت پر موقوف رکھنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسے چاہت کے بغیر مجبور کیا جا سکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔
۔
اس انداز سے دعا کرنا گویا مطلوب اور مطلوب منہ سے بے پروائی ظاہر ہوتی ہے، لہذا دعا کرتے وقت مشیت الٰہی پر موقوف رکھنے کی بجائے پورے عزم کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔
سوال میں پختگی کا مطلب یہ ہے کہ طلب میں شدت ہو، اس میں کسی قسم کی لچک کا اظہار نہ ہو اور نہ اپنے سوال کو مشیت پر موقوف رکھا جائے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 291/2)
دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں:۔
مشیت پر موقوف رکھنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسے چاہت کے بغیر مجبور کیا جا سکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔
۔
اس انداز سے دعا کرنا گویا مطلوب اور مطلوب منہ سے بے پروائی ظاہر ہوتی ہے، لہذا دعا کرتے وقت مشیت الٰہی پر موقوف رکھنے کی بجائے پورے عزم کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔
سوال میں پختگی کا مطلب یہ ہے کہ طلب میں شدت ہو، اس میں کسی قسم کی لچک کا اظہار نہ ہو اور نہ اپنے سوال کو مشیت پر موقوف رکھا جائے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 291/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7477 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3497 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: ” اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما “ ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)، [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3497]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: ” اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما “ ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)، [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3497]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے عزم، پختہ ارادے، اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیے، مجھے یہ دے، مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
وضاحت:
1؎:
یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے عزم، پختہ ارادے، اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیے، مجھے یہ دے، مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3497 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1483 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دعا کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1483]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1483]
1483. اردو حاشیہ: اس انداز سے دعا میں گویا داعی خوب راغب نہیں ہوتا۔اور اسے ضرورت نہیں ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ پختگی اور عزیمت سے مانگا جائے۔ اے اللہ! مجھے یہ چیز عنایت فرما کیونکہ جب اللہ دیناچاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1483 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3854 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´آدمی کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اپنی حاجت طلب کرنی چاہیے۔
(2)
یہ کہنا کہ ’’اگر تو چاہے‘‘ اللہ کے شایان شان نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ سب کچھ دینے والا تو وہی ایک ہے اس سے تو اس عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے کہ اگر تو میری دعا قبول نہیں کرے گا تو میرا تو تیر ے سوا اور کوئی در ہی نہیں ہے، میں تیرا در چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ بہرحال ایسے الفاظ نا پسندیدہ ہیں جن میں یقین کی بجائے مایوسی کا اظہار ہو۔
(3)
یہ دعا کرنا درست ہے کہ اگر فلاں چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا فرما دے ورنہ وہ چیز عطا فرما دے جو میرے لیے بہتر ہو۔
دعائے استخارہ میں یہی دعا کی جاتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اپنی حاجت طلب کرنی چاہیے۔
(2)
یہ کہنا کہ ’’اگر تو چاہے‘‘ اللہ کے شایان شان نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ سب کچھ دینے والا تو وہی ایک ہے اس سے تو اس عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے کہ اگر تو میری دعا قبول نہیں کرے گا تو میرا تو تیر ے سوا اور کوئی در ہی نہیں ہے، میں تیرا در چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ بہرحال ایسے الفاظ نا پسندیدہ ہیں جن میں یقین کی بجائے مایوسی کا اظہار ہو۔
(3)
یہ دعا کرنا درست ہے کہ اگر فلاں چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا فرما دے ورنہ وہ چیز عطا فرما دے جو میرے لیے بہتر ہو۔
دعائے استخارہ میں یہی دعا کی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3854 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 449 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´دعا کرتے وقت ”اگر تو چاہے“ کہنے کی ممانعت`
«. . . 336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 449]
«. . . 336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 449]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6339، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دعا صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔
➋ اللہ تعالیٰ سے اس جذبے کے ساتھ بطور جزم دعا مانگنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ضرور دعا قبول فرمائے گا۔
[وأخرجه البخاري 6339، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دعا صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔
➋ اللہ تعالیٰ سے اس جذبے کے ساتھ بطور جزم دعا مانگنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ضرور دعا قبول فرمائے گا۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 336 سے ماخوذ ہے۔