حدیث نمبر: 101
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ "ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا اس قوم پر انتہائی سخت غضب ہوا جس نے اس کے رسول کے ساتھ ایسا کیا جب کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے والے چار دندان مبارک (جو شہید کیے گئے تھے) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4073 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4073. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالٰی کا غضب اس قوم پر انتہائی سخت ہو جاتا ہے جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔۔ آپ نے اپنے اگلے دو دندان مبارک کی طرف اشارہ کیا۔۔ اس آدمی پر اللہ تعالٰی کا غضب سخت ہوتا ہے جسے اللہ کے رسول نے اللہ کے راستے میں قتل کیا ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4073]
حدیث حاشیہ:
1۔
رباعی وہ دانت ہوتے ہیں جو سامنے والے دودانتوں کے دائیں بائیں ہوتے ہیں اور ہر انسان کے چار دنت رباعی ہوتے ہیں۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کے دائیں جانب والے نچلے رباعی دانت کے ساتھ نچلا ہونٹ بھی زخمی ہواتھا۔
غزوہ احد میں عتبہ بن ابی وقاص ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارا جس سے دائیں جانب والا نچلا رباعی دانت متاثر ہواتھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ مجھے کسی شخص کے قتل کی اتنی حرص نہ تھی جتنی اپنے حقیقی بھائی عتبہ بن ابی وقاص کوقتل کرنے کی خواہش تھی کیونکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے اگلے دودانت زخمی کیے تھے۔
(فتح الباري: 457/7)
1۔
رباعی وہ دانت ہوتے ہیں جو سامنے والے دودانتوں کے دائیں بائیں ہوتے ہیں اور ہر انسان کے چار دنت رباعی ہوتے ہیں۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کے دائیں جانب والے نچلے رباعی دانت کے ساتھ نچلا ہونٹ بھی زخمی ہواتھا۔
غزوہ احد میں عتبہ بن ابی وقاص ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارا جس سے دائیں جانب والا نچلا رباعی دانت متاثر ہواتھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ مجھے کسی شخص کے قتل کی اتنی حرص نہ تھی جتنی اپنے حقیقی بھائی عتبہ بن ابی وقاص کوقتل کرنے کی خواہش تھی کیونکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے اگلے دودانت زخمی کیے تھے۔
(فتح الباري: 457/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4073 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1793 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا غصہ اس قوم پر انتہائی سخت ہو گا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کیا‘‘ اور آپﷺ اس وقت اپنے رباعی دانت کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا غصہ اس شخص پر انتہائی سخت ہوتا ہے، جسے اللہ کا رسول، اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4648]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو تنگ کرنا، اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کو دعوت دینا ہے اور جس کے خلاف وہ ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہوں، وہ انتہائی بدبخت ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1793 سے ماخوذ ہے۔