حدیث نمبر: 100
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلاحِ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ أَنْ يَنْزِعَ فِي يَدِهِ، فَيَقَعَ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، (کیونکہ) وہ نہیں جانتا کہ ممکن ہے شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار (اسلحہ) چھڑوا دے (اور وہ کسی کو مار بیٹھے) جس کے سبب وہ (مارنے والا) جہنم کے گڑھے میں جا گرے گا۔“

حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 100
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب الفتن، باب قول النبى صلى الله عليه وسلم من حمل علينا السلاح فليس منا، رقم: 7072، حدثنا محمد: أخبرنا عبدالرزاق عن معمر، عن همام: سمعت أبا هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: .... - صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب النهى عن الإشارة، رقم: 2617/126، حدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق: أخبرنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: .... - مسند أحمد: 91/16، رقم: 103/8197 - مصنف عبدالرزاق، باب ذكر رفع السلاح، رقم: 18679 - شرح السنة: باب النهى عن أن يشير إلى أحد بالسلاح، رقم: 2573.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7072 | صحيح مسلم: 2617

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7072 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7072. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ (اس کے انجام کو) نہیں جانتا ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے وار کرا دے پھر وہ (اس وجہ سے) دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7072]
حدیث حاشیہ: اس طرح کہ دنیا سے دین کے عالم گزر جائیں گے اور جو لوگ باقی رہیں گے وہ ہمہ تن دنیا کے کمانے میں غرق ہوں گے‘ ان کو دینی علوم کا بالکل شوق ہی نہیں رہے گا۔
ہمارے زمانہ میں یہ آثار شروع ہو گئے ہیں۔
ہزار ہا لکھو کھ ہا مسلمان اپنے بچوں کو صرف انگریزی تعلیم دلاتے ہیں‘ قرآن وحدیث سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں إلا ما شا ءاللہ۔
کچھ کچھ جو دین کے عالم رہ گئے ہیں‘ قیامت کے قریب یہ بھی نہ رہیں گے۔
علم دین کو محض بے کار سمجھ کر اس کی تحصیل چھوڑ دیں گے‘ کیونکہ اچھے لوگ قیامت سے پہلے اٹھ جائیں گے۔
جیسے امام مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو حریر سے زیادہ ملائم ہوگی اس کے لگتے ہی جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہو گا وہ اٹھ جائے گا۔
دوسری حدیث میں ہے قیامت تب تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جائے گا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا تو اس سے یہ نکلتا ہے کہ قیامت اچھے لوگوں پر بھی قائم ہوگی کیونکہ اس حدیث میں قیامت تک سے مراد ہے کہ اس ہوا چلنے تک جس کے لگتے ہی ہر ایک مومن مر جائے گا اور کفارہ ہی دنیا میں رہ جائیں گے انہی پر قیامت آئے گی قسطلانی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7072 سے ماخوذ ہے۔