کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5738
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ , قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَصْحَابُ كَرْمٍ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ , فَمَاذَا نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا " , قُلْتُ : فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا ؟ قَالَ : " تُنْقِعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ , وَتُنْقِعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ " , قُلْتُ : أَفَلَا نُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ ؟ قَالَ : " لَا تَجْعَلُوهُ فِي الْقُلَلِ وَاجْعَلُوهُ فِي الشِّنَانِ , فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ دیلمی کے والد فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم انگور والے لوگ ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرما دی ہے ، اب ہم کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے سکھا کر منقیٰ بنا لو “ ۔ میں نے کہا : تب ہم منقیٰ کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے صبح کے وقت بھگوؤ دو اور شام کو پیو ، اور شام کو بھگوؤ صبح کو پیو “ ۔ میں نے کہا : دیر تک نہ رہنے دیں یہاں تک کہ اس میں تیزی آ جائے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے گھڑوں میں مت رکھو بلکہ چمڑے کی مشک میں رکھو اس لیے کہ اگر اس میں زیادہ دیر تک رہا تو وہ ( مشروب ) سرکہ بن جائے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس باب میں (بشمول باب ۵۷) جو احادیث و آثار مذکور ہیں ان کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کچھ مشروبات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کسی مرحلہ میں ان میں نشہ نہیں ہوتا اور کسی مرحلہ میں ہو جاتا ہے، تو جب مرحلہ میں نشہ نہیں ہوتا اس کا پینا حلال ہے، اور جب نشہ پیدا ہو جائے تو خواہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں کم مقدار میں پینے سے خواہ نشہ آئے یا نہ آئے اس کا پینا حرام ہے۔ «الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات» ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الٔلشربة 10(3710)، (تحفة الٔاشراف: 11062)، مسند احمد (4/232) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5739
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرِ بْنِ النَّحَّاسِ , عَنْ ضَمْرَةَ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا فَمَاذَا نَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : " زَبِّبُوهَا " , قُلْنَا : فَمَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ ؟ قَالَ : " انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ , وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ , وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقِلَالِ فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے انگور کے باغات ہیں ہم ان کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ان کا منقیٰ اور کشمش بنا لو “ ، ہم نے عرض کیا : پھر منقے اور کشمش کا کیا کریں ، آپ نے فرمایا : ” صبح کو بھگاؤ اور شام کو پی لو ، اور شام کو بھگاؤ صبح کو پی لو ، اور اسے مشکیزوں میں بھگاؤ ، گھڑوں میں نہ بھگانا ، اس لیے کہ اگر اس میں وہ ( مشروب ) دیر تک رہ گیا تو سرکہ بن جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5739
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن، صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5740
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُطِيعٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ , فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ , فَإِنْ بَقِيَ فِي الْإِنَاءِ شَيْءٌ لَمْ يَشْرَبُوهُ أُهَرِيقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی ، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ۱؎ ، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہم نبیذ تیار کرتے جسے آپ ایک دن اور رات تک پیتے، تو یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے معارض نہیں ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس سے زیادہ مدت تک پینے کی نفی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5740
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3713)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 12 (3399)، (تحفة الأشراف: 11062)، مسند احمد (1/232، 240، 287) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5741
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی ، آپ اسے اس دن ، دوسرے دن اور تیسرے دن تک پیتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5741
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح لغیرہ)»
حدیث نمبر: 5742
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ نَبِيذُ الزَّبِيبِ مِنَ اللَّيْلِ فَيَجْعَلُهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ , وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ , فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الثَّالِثَةِ سَقَاهُ أَوْ شَرِبَهُ فَإِنْ أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ , أَهْرَاقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی ، وہ مشکیزے میں رکھی جاتی پھر آپ اسے اس دن ، دوسرے دن اور اس کے بعد کے ( تیسرے ) دن پیتے ، جب تیسرے دن کا آخری وقت ہوتا تو آپ اسے ( کسی کو ) پلاتے یا خود پی لیتے اور صبح تک کچھ باقی رہ جاتی تو اسے بہا دیتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5740 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5743
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ وَيُنْبَذُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً , وَكَانَ يَغْسِلُ الْأَسْقِيَةَ وَلَا يَجْعَلُ فِيهَا دُرْدِيًّا وَلَا شَيْئًا " , قَالَ نَافِعٌ : فَكُنَّا نَشْرَبُهُ مِثْلَ الْعَسَلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی ، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے ، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے ، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے ۔ نافع کہتے ہیں : ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7938) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5744
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ بَسَّامٍ , قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّبِيذِ ؟ قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً وَيُنْبَذُ لَهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بسام کہتے ہیں کہ` میں نے ابو جعفر سے نبیذ کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : علی بن حسین کے لیے رات کو نبیذ تیار کی جاتی تو وہ صبح کو پیتے ، اور صبح کو تیار کی جاتی تو رات کو پیتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5744
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19135) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5745
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ ؟ , قَالَ : " انْتَبِذْ عَشِيًّا وَاشْرَبْهُ غُدْوَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ` میں نے سفیان سے سنا : ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ انہوں نے کہا : شام کو بھگو دو اور صبح کو پیو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5745
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18773) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5746
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ , أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَرْسَلَتْ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ , فَحَدَّثَهَا , عَنْ النَّضْرِ ابْنِهِ : " أَنَّهُ كَانَ يَنْبِذُ فِي جَرٍّ يُنْبَذُ غَدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعثمان ( جو ابوعثمان نہدی نہیں ہیں ) سے روایت ہے کہ` ام الفضل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھوایا ۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے نضر کے واسطہ سے ان کو بتایا کہ وہ گھڑے میں نبیذ تیار کرتے تھے ، اور صبح کو نبیذ تیار کرتے اور شام کو پیتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو عثمان: مجهول (التحرير: 8240) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1722) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ ابو عثمان‘‘ لین الحدیث ہیں)»
حدیث نمبر: 5747
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ نَطْلَ النَّبِيذِ فِي النَّبِيذِ لِيَشْتَدَّ بِالنَّطْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آ جائے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18724) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5748
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّهُ قَالَ : " فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا : نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5748
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18702) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5749
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ : " إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا , وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہو جاتا ہے ، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے ، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18723) (صحیح الإسناد)»