حدیث نمبر: 5732
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ , قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَصِيرِ ؟ , فَقَالَ : " اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا " , قَالَ : إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ , قَالَ : " أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ` میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس ( شیرے ) کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے کہا : جب تک تازہ ہو پیو ۔ اس نے کہا : میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہو جاتی ۔
حدیث نمبر: 5733
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ : " وَاللَّهِ , مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ " , قَالَ : ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ : لَا تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلَاءِ وَلَا تُحَرِّمُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بیان کرتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ کی قسم ! آگ کسی ( حرام ) چیز کو حلال نہیں کرتی ، اور نہ ہی کسی ( حلال ) چیز کو حرام کرتی ہے “ پھر آپ نے اپنے اس قول ” آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرتی “ کی شرح میں یہ کہا کہ یہ رد ہے طلاء کے سلسلے میں بعض لوگوں کے قول کا ۱؎ کہ ” آگ جس کو چھولے اس سے وضو واجب ہو جاتا ہے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: وہ قول یہ ہے ” آگ سے طلاء حلال ہو جاتا ہے “ یعنی: طلاء کا دد تہائی جب جل جائے اور ایک ثلث باقی رہ جائے تو یہ آخری تہائی حلال ہے۔ ۲؎: یہ تردید اس طرح ہے کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ آگ سے پکنے سے پہلے کوئی چیز حلال تھی اور پکنے کے بعد وہ حرام ہو گئی، تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ بھی کسی چیز کو حلال اور حرام کرتی ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس تشریح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ «الوضوء مما مست النار» کا جملہ حدیث نمبر ۵۷۳۳ کا «تتمہ» ہے، نہ کہ کوئی مستقل باب کا عنوان، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے (سندھی اور حاشیہ نظامیہ میں اس پر انتباہ موجود ہے، نیز: اگر اس جملے کو ایک مستقل باب مانتے ہیں تو اس میں مذکور آثار (نمبر ۵۷۳۴ تا ۵۷۳۷) کا اس باب سے کوئی تعلق بھی نظر نہیں آتا)۔
حدیث نمبر: 5734
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ , قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ : " اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا لَمْ يُزْبِدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` شیرہ ( رس ) پیو ، جب تک کہ اس میں جھاگ نہ آ جائے ۔
حدیث نمبر: 5735
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عَائِذٍ الْأَسَدِيِّ , قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْعَصِيرِ , قَالَ : " اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہشام بن عائذ اسدی کہتے ہیں کہ` میں نے ابراہیم نخعی سے شیرے ( رس ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے پیو ، جب تک کہ ابل کر بدل جائے ۔
حدیث نمبر: 5736
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَصِيرِ , قَالَ : " اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطا سے شیرے ( رس ) کے بارے میں کہتے ہیں :` پیو ، جب تک اس میں جھاگ نہ آ جائے ۔
حدیث نمبر: 5737
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : " اشْرَبْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا أَنْ يَغْلِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبی کہتے ہیں کہ` اسے ( رس ) تین دن تک پیو سوائے اس کے کہ اس میں جھاگ آ جائے ۔