حدیث نمبر: 5718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ نُبَاتَةَ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ , قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ : " أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل ( گورنر ) کو لکھا : مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 5719
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ قَالَ : قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى : " أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّهَا قَدِمَتْ عَلَيَّ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ شَرَابًا غَلِيظًا أَسْوَدَ كَطِلَاءِ الْإِبِلِ , وَإِنِّي سَأَلْتُهُمْ عَلَى كَمْ يَطْبُخُونَهُ ؟ فَأَخْبَرُونِي أَنَّهُمْ يَطْبُخُونَهُ عَلَى الثُّلُثَيْنِ , ذَهَبَ ثُلُثَاهُ الْأَخْبَثَانِ ثُلُثٌ بِبَغْيِهِ , وَثُلُثٌ بِرِيحِهِ , فَمُرْ مَنْ قِبَلَكَ يَشْرَبُونَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابوموسیٰ اشعری کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا : امابعد ، میرے پاس شام کا ایک قافلہ آیا ، ان کے پاس ایک مشروب تھا جو گاڑھا اور کالا تھا جیسے اونٹ کا طلاء ۔ میں نے ان سے پوچھا : وہ اسے کتنا پکاتے ہیں ؟ انہوں نے مجھے بتایا : وہ اسے دو تہائی پکاتے ہیں ۔ اس کے دو خراب حصے جل کر ختم ہو جاتے ہیں ، ایک تہائی تو شرارت ( نشہ ) والا اور دوسرا تہائی اس کی بدبو والا ۔ لہٰذا تم اپنے ملک کے لوگوں کو اس کے پینے کی اجازت دو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ پکانے پر انگور کے رس کی تین حالتیں ہیں: پہلی حالت یہ ہے کہ وہ نشہ لانے والا اور تیز ہوتا ہے، دوسری حالت یہ ہے کہ وہ بدبودار ہوتا ہے اور تیسری حالت یہ ہے کہ وہ عمدہ اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5720
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ , قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَمَّا بَعْدُ , فَاطْبُخُوا شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ مِنْهُ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ , فَإِنَّ لَهُ اثْنَيْنِ وَلَكُمْ وَاحِدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا : امابعد ، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ۱؎ ، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک ۔
وضاحت:
۱؎: شیطانی حصہ سے روایت نمبر ۵۷۲۹ میں مذکور واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
حدیث نمبر: 5721
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ جَرِيرٍ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " يَرْزُقُ النَّاسَ الطِّلَاءَ يَقَعُ فِيهِ الذُّبَابُ , وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر شعبی کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اتنا گاڑھا طلاء پلاتے کہ اگر اس میں مکھی گر جائے تو وہ اس میں سے نکل نہ سکے ۔
حدیث نمبر: 5722
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدًا : مَا الشَّرَابُ الَّذِي أَحَلَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ , قَالَ : " الَّذِي يُطْبَخُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´داود کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن المسیب سے پوچھا : وہ کون سا مشروب ہے جسے عمر رضی اللہ عنہ نے حلال قرار دیا ؟ وہ بولے : جو اس قدر پکایا جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ ختم ہو جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے ۔
حدیث نمبر: 5723
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ " كَانَ يَشْرَبُ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ایسا مشروب پیتے جو دو تہائی جل کر ختم ہو گیا ہو اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہو ۔
حدیث نمبر: 5724
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هُشَيْمٍ , قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : " أَنَّهُ كَانَ يَشْرَبُ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ ایسا طلاء پیتے تھے جس کا دو تہائی جل کر ختم ہو گیا ہو اور ایک تہائی باقی ہو ۔
حدیث نمبر: 5725
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , وَسَأَلَهُ أَعْرَابِيٌّ عَنْ شَرَابٍ يُطْبَخُ عَلَى النِّصْفِ ؟ , فَقَالَ : " لَا , حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى الثُّلُثُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` ایک اعرابی نے ان سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جو پکا کر آدھا رہ گیا ہو ، انہوں نے کہا : نہیں ، جب تک دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے ۔
حدیث نمبر: 5726
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ مَعْنٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ : " إِذَا طُبِخَ الطِّلَاءُ عَلَى الثُّلُثِ فَلَا بَأْسَ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` جب طلاء جل کر ایک تہائی رہ جائے تو اسے پینے میں کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 5727
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ , قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ الطِّلَاءِ الْمُنَصَّفِ ؟ , فَقَالَ : " لَا تَشْرَبْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورجاء کہتے ہیں کہ` میں نے حسن ( حسن بصری ) سے اس طلاء کے بارے میں پوچھا جو جل کر نصف رہ گیا ہو ، تو انہوں نے کہا : اسے مت پیو ۔
حدیث نمبر: 5728
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ , قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ : عَمَّا يُطْبَخُ مِنَ الْعَصِيرِ ؟ قَالَ : " مَا تَطْبُخُهُ حَتَّى يَذْهَبَ الثُّلُثَانِ وَيَبْقَى الثُّلُثُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بشیر بن مہاجر کہتے ہیں کہ` میں نے حسن ( حسن بصری ) سے پوچھا : شیرہ ( رس ) کس قدر پکایا جائے ۔ انہوں نے کہا : اس وقت تک پکاؤ کہ اس کا دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے ۔
حدیث نمبر: 5729
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ : " إِنَّ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازَعَهُ الشَّيْطَانُ فِي عُودِ الْكَرْمِ , فَقَالَ : هَذَا لِي , وَقَالَ : هَذَا لِي , فَاصْطَلَحَا عَلَى أَنَّ لِنُوحٍ ثُلُثَهَا , وَلِلشَّيْطَانِ ثُلُثَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن سیرین کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : نوح علیہ السلام سے شیطان نے انگور کے پودے کے بارے میں جھگڑا کیا ، اس نے کہا : یہ میرا ہے ، انہوں نے کہا : یہ میرا ہے ، پھر دونوں میں صلح ہوئی اس پر کہ نوح علیہ السلام کا ایک تہائی ہے اور شیطان کا دو تہائی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اسی طرف عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ تھا۔ (دیکھئیے نمبر ۵۷۲۰)
حدیث نمبر: 5730
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ طُفَيْلٍ الْجَزَرِيِّ , قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : " أَنْ لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ , وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ` عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا : طلاء مت پیو ، جب تک کہ اس کا دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی نہ رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
حدیث نمبر: 5731
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ بُرْدٍ , عَنْ مَكْحُولٍ , قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مکحول کہتے ہیں :` ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔