کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5680
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْرَبُوا فِي الظُّرُوفِ وَلَا تَسْكَرُوا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، غَلِطَ فِيهِ أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , وَسِمَاكٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَكَانَ يَقْبَلُ التَّلْقِينَ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : كَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ يُخْطِئُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . خَالَفَهُ شَرِيكٌ فِي إِسْنَادِهِ وَفِي لَفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر برتن میں پیو ، لیکن اتنا نہیں کہ مست ہو جاؤ “ ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ، اس میں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے غلطی کی ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سماک کے تلامذہ میں سے کسی نے بھی ان کی متابعت کی ہو ، اور سماک خود بھی قوی نہیں وہ تلقین کو قبول کرتے تھے ۲؎ ۔ امام احمد بن حنبل نے کہا : ابوالاحوص اس حدیث میں غلطی کرتے تھے ، شریک نے ابوالاحوص کی اسناد اور الفاظ میں مخالفت کی ہے ۳؎ ۔
وضاحت:
۱؎: احتمال ہے اس بات کا کہ «ولاتسكروا» سے مراد «ولا تشربوا المسكر» ہو، یعنی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس تاویل سے اس روایت اور حرام بتانے والی دیگر روایات کے اندر تطبیق ہو جاتی ہے۔ ۲؎: تلقین کا معنی ہوتا ہے: کسی سے اعادہ کرانے کے لیے کوئی بات کہنا، بالمشافہ سمجھنا، باربار سمجھا کر، سنا کر ذہن میں بٹھانا اور ذہن نشین کرانا۔ ۳؎: ابوالا حوص بخاری و مسلم کے رواۃ میں سے ہیں، اور ان کی اس حدیث کے شواہد بھی موجود ہیں، جب کہ ان کے برخلاف شریک حافظہ کے ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سماك بن حرب اختلط. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11723) (حسن، صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ " . خَالَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی ، لاکھی برتن ، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے ۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے، جو آگے کی روایت میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، سنن الترمذی/الجنائز 60 (1054)، الإضاحي 14 (1510)، الأشربة 6 (1869)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 3405)، (تحفة الأشراف: 1932)، مسند احمد (5/356، 359، 361) (صحیح) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور تھے، اس لیے غلطی کر جاتے تھے)»
حدیث نمبر: 5682
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَجَّاجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قِرْصَافَةَ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا أَيْضًا غَيْرُ ثَابِتٍ ، وَقِرْصَافَةُ هَذِهِ لَا نَدْرِي مَنْ هِيَ ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَائِشَةَ خِلَافُ مَا رَوَتْ عَنْهَا قِرْصَافَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` شراب پیو ، لیکن ( اس حد تک کہ ) مست نہ ہو جاؤ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ بھی ثابت نہیں ہے اور قرصافہ یہ کون ہے ؟ ہمیں نہیں معلوم اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول جو مشہور بات ہے وہ اس کے برعکس ہے جو قرصافہ نے ان سے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوفا لكن صح مرفوعا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قرصافة: لا يعرف حالها (تقريب: 8663) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5680 (ضعیف الإسناد) (قرصافہ مجہول ہیں، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوع صحیح ہے جیسا کہ گزرا)»
حدیث نمبر: 5683
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ قُدَامَةَ الْعَامِرِيِّ ، أَنَّ جَسْرَةَ بِنْتَ دَجَاجَةَ الْعَامِرِيَّةَ حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَأَلَهَا أُنَاسٌ كُلُّهُمْ يَسْأَلُ عَنِ النَّبِيذِ , يَقُولُ : نَنْبِذُ التَّمْرَ غُدْوَةً وَنَشْرَبُهُ عَشِيًّا ، وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا وَنَشْرَبُهُ غُدْوَةً ؟ قَالَتْ : " لَا أُحِلُّ مُسْكِرًا ، وَإِنْ كَانَ خُبْزًا ، وَإِنْ كَانَتْ مَاءً " , قَالَتْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جسرہ بنت دجاجہ عامر یہ بیان کرتی ہیں کہ` میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا : ان سے کچھ لوگوں نے سوال کیا اور وہ سب ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ صبح کو کھجور بھگوتے اور شام کو پیتے ہیں اور شام کو بھگوتے ہیں تو صبح میں پیتے ہیں ، تو وہ بولیں : میں کسی نشہ لانے والی چیز کو حلال قرار نہیں دیتی خواہ وہ روٹی ہو خواہ پانی ، انہوں نے ایسا تین بار کہا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17831) (ضعیف الٕاسناد) (اس کے راوی ’’ قدامہ ‘‘ اور ’’ جسرہ ‘‘ دونوں لین الحدیث ہیں)»
حدیث نمبر: 5684
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , تَقُولُ : " نُهِيتُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، نُهِيتُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ ، نُهِيتُمْ عَنِ الْمُزَفَّتِ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ : " إِيَّاكُنَّ وَالْجَرَّ الْأَخْضَرَ ، وَإِنْ أَسْكَرَكُنَّ مَاءُ حُبِّكُنَّ فَلَا تَشْرَبْنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : تم لوگوں کو کدو کی تونبی سے منع کیا گیا ہے ، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے ، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں : سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آ جائے تو اسے نہ پیو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، كريمة بنت همام: لم أجد من وثقها. ولبعض الحديث شواهد. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 17960) (حسن الٕاسناد)»
حدیث نمبر: 5685
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي وَالِدَتِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟ , فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " . وَاعْتَلُّوا بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتے تھے ۔ «واعتلوا بحديث عبداللہ بن شداد عن عبداللہ بن عباس» لوگوں نے عبداللہ بن شداد کی ( آگے آنے والی ) اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17974) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5686
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ يَذْكُرُهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا ، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ " . ابْنُ شُبْرُمَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے ، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے ۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5789)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5687-5689) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5687
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الثِّقَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا ، وَالسَّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ " . خَالَفَهُ أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` شراب تو بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ اور دوسرے مشروبات ( اس وقت حرام ہیں ) جب نشہ آ جائے ۔ ابو عون محمد عبیداللہ ثقفی نے ابن شبرمہ کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مخالفت یہ ہے کہ ابو عون نے «السكر» (سین کے ضم اور کاف کے سکون کے ساتھ) کی بجائے «المسكر» (میم کے ضمہ، سین کے کسرہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ) («ما أسكر» جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) روایت کی ہے، جو معنی میں بھی ابن شبرمہ کی روایت کے خلاف ہے، لفظ «السكر» سے کا مطلب یہ ہے کہ جس مقدار پر نشہ آ جائے وہ حرام ہے اس سے پہلے نہیں، اور لفظ «المسكر» (یا اگلی روایت میں «ما أسكر» ) کا مطلب یہ ہے کہ جس مشروب سے بھی نشہ آتا ہو (خواہ اس کی کم مقدار پر نہ آئے) وہ حرام ہے، اور سنداً ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت زیادہ قریب صواب ہے، اس لیے امام طحاوی وغیرہ کا استدلال ابن شبرمہ کی روایت سے درست نہیں۔ (دیکھئیے: الحواشی الجدیدہ للفنجابی، نیز الفتح ۱۰/۶۵)
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 5688
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ . ح ، وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا ، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ " . لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ الْحَكَمِ : " قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` شراب بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ، اور ہر مشروب جو نشہ لائے حرام ہے ۔ ( مقدار کم ہو یا زیادہ ) ابن حکم نے «قلیلھا و کثیر ھا» ( خواہ کم ہو یا زیادہ ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5686 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5689
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ , عَنْ أَبِي عَوْنٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَمَا أَسْكَرَ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ شُبْرُمَةَ , وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ كَانَ يُدَلِّسُ , وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ , ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , وَرِوَايَةُ أَبِي عَوْنٍ أَشْبَهُ بِمَا رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لائے ( کم ہو یا زیادہ ) حرام ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابن شبرمہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۱؎ ، ہشیم بن بشیر تدلیس کرتے تھے ، ان کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع ہونے کا ذکر نہیں ہے اور ابو عون کی روایت ان ثقات کی روایت سے بہت زیادہ مشابہ ہے جنہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: اس حدیث کا بلفظ «المسکر» ہونا بمقابلہ «السکر» ہونے کا زیادہ صحیح ہے، (ابن شبرمہ کی روایت میں «السکر» ہے جب کہ ابو عون کی روایت میں «المسکر» ہے) امام نسائی کی طرح امام احمد وغیرہ نے بھی لفظ «المسکر» ہی کو ترجیح دیا ہے (دیکھئیے فتح الباری ج۱۰/ص۴۳)۔ ۲؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت سنداً زیادہ قرین صواب اس لیے بھی ہے کہ ابو عون کی روایت ابن عباس سے روایت کرنے والے دیگر ثقہ رواۃ کی روایتوں کے مطابق ہے کہ ابن عباس نشہ لانے والے مشروب کی ہر مقدار کی حرمت کے قائل تھے خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5686 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5690
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ , قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذَقِ , فَقَالَ : " سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ , وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " , قَالَ : أَنَا أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» ( بادہ ) کے بارے میں پوچھا ، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے ، چنانچہ وہ بولے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے ( یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ ) جو مشروب نشہ لائے ، وہ حرام ہے ۔ وہ ( جرمی ) کہتے ہیں : میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا ۔
وضاحت:
۱؎: «باذق» : بادہ کا معرب ہے جو فارسی لفظ ہے، انگور کے شیرے کو تھوڑا سا جوش دے کر ایک خاص قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں۔ یہ مشروب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا، لیکن ہر نشہ لانے والے کے بارے میں آپ کا فرمان اس پر بھی صادق آتا ہے، اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے، تو کیسے یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ معروف شراب کے سوا دیگر مشروب کی وہی مقدار حرام ہے جو نشہ لائے؟۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5609 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5691
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ , وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ يُحَدِّثُ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ إِنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں :` جسے بھلا معلوم ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام کہنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ نبیذ کو حرام کہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مراد اس سے وہ نبیذ ہے، جس میں نشہ پیدا ہو چکا ہو خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6323) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5692
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ , وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ , وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ , وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ , اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ , أَوْ زَبِيبٍ , أَوْ غَيْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : میں اہل خراسان میں سے ایک فرد ہوں ، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے ، ہم منقی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں ، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان سے مشروبات کی کئی «قسی» میں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید «قسی» میں ۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ ( ابن عباس ) اس کو نہیں سمجھ سکے ۔ ابن عباس نے اس سے کہا : تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں ۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو جائے اس سے بچو ( خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5815) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5693
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " نَبِيذُ الْبُسْرِ بَحْتٌ لَا يَحِلُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` گدر ( ادھ کچی ) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5442) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي جَمْرَةَ , قَالَ : كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , فَنَهَى عَنْهُ , قُلْتُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ , إِنِّي أَنْتَبِذُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ نَبِيذًا حُلْوًا , فَأَشْرَبُ مِنْهُ , فَيُقَرْقِرُ بَطْنِي , قَالَ : " لَا تَشْرَبْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجمرہ کہتے ہیں کہ` میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عربی سے ناواقف لوگوں کے درمیان ترجمہ کر رہا تھا ، اتنے میں ان کے پاس ایک عورت لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھنے آئی تو انہوں نے اس سے منع کیا ، میں نے عرض کیا : ابوعباس ! میں ایک سبز لاکھی میں میٹھی نبیذ تیار کرتا اور اسے پیتا ہوں ، اس سے میرے پیٹ میں ریاح بنتی ہے ، انہوں نے کہا : اسے مت پیو اگرچہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو ۔
وضاحت:
۱؎: ابوعباس یعنی آپ کے سب سے بڑے لڑکے کا نام عباس تھا، انہی کے نام سے آپ کی کنیت ابوعباس تھی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6534) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5695
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ , قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا , إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ , فَقَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا , وَلَا النَّادِمِينَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ , وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ , فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ , دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا , قَالَ : " آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ , وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ , وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ " , قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَإِقَامُ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ , وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ , وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ , وَالْحَنْتَمِ , وَالْمُزَفَّتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں ۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے ، وہ بولے : عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : ” خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے ، نہ شرمندہ “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں ، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں ، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں ۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ ( گھروں پر ) رہ گئے ہیں ، انہیں اس کی دعوت دیں ۔ آپ نے فرمایا : ” میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں : میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو ؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ “ وہ لوگ بولے : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا : ” اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور نماز قائم کرنا ، زکاۃ دینی ، اور غنیمت کے مال میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) ادا کرنا ، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں : کدو کی تونبی ، لکڑی کے برتن ، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5034 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5696
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْنانَ , قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , قُلْتُ : إِنَّ لِي جُرَيْرَةً أَنْتَبِذُ فِيهَا حَتَّى إِذَا غَلَى وَسَكَنَ شَرِبْتُهُ , قَالَ : " مُذْ كَمْ هَذَا شَرَابُكَ ؟ " , قُلْتُ : مُذْ عِشْرُونَ سَنَةً , أَوْ قَالَ : مُذْ أَرْبَعُونَ سَنَةً , قَالَ : " طَالَمَا تَرَوَّتْ عُرُوقُكَ مِنَ الْخَبَثِ وَمِمَّا اعْتَلُّوا بِهِ " . حَدِيثُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن وہبان کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : میرے پاس ایک گھڑا ہے ، میں اس میں نبیذ تیار کرتا ہوں ، جب وہ جوش مارنے لگتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے تو اسے پیتا ہوں ، انہوں نے کہا : تم کتنے برس سے یہ پی رہے ہو ؟ میں نے کہا : بیس سال سے ، یا کہا : چالیس سال سے ، بولے : عرصہ دراز تک تیری رگیں گندگی سے تر ہوتی رہیں ۔ «ومما اعتلوا به حديث عبد الملك بن نافع عن عبداللہ بن عمر» تھوڑی سی شراب کے جواز کی دلیل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہوئی عبدالملک بن نافع کی حدیث بھی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قيس بن وهبان (هبار): مجهول (التحرير: 5595) وثقه ابن حبان وحده. وسليمان التيمي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6334) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ قیس ‘‘ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا معنی صحیح احادیث سے ثابت ہے)»
حدیث نمبر: 5697
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّكْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ , فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا , فَرَدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " , فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ , فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَقَطَّبَ , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ , فَاكْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے ایک شخص کو دیکھا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا اس میں نبیذ تھی ۔ آپ رکن ( حجر اسود ) کے پاس کھڑے تھے اور آپ کو وہ پیالہ دے دیا ۔ آپ نے اسے اپنے منہ تک اٹھایا تو دیکھا کہ وہ تیز ہے ، آپ نے اسے لوٹا دیا ، آپ سے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” بلاؤ اس شخص کو “ ، اس کو بلایا گیا ، آپ نے اس سے پیالا لے لیا پھر پانی منگایا اور اس میں ڈال دیا ، پھر منہ سے لگایا تو پھر منہ بنایا اور پھر پانی منگا کر اس میں ملایا ۔ پھر فرمایا : ” جب ان برتنوں میں کوئی مشروب تمہارے لیے تیز ہو جائے تو اس کی تیزی کو پانی سے مٹاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن نافع: مجهول (تقريب: 4224) وضعفه ابن معين وغيره وضعفه راجح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7303) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں)»
حدیث نمبر: 5698
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَر , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ , وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ , وَالْمَشْهُورُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں ، ان کی روایات لائق دلیل نہیں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5698
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن نافع: مجهول (تقريب: 4224) وضعفه ابن معين وغيره وضعفه راجح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد)»
حدیث نمبر: 5699
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟ , فَقَالَ : " اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6742) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5700
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟ , فَقَالَ : " اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5701
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : " الْمُسْكِرُ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نشہ لانے والی چیز خواہ کم ہو ( جو نشہ نہ لائے ) یا زیادہ حرام ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان التيمي عنعن. والحديث الآتي (الأصل: 5702) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7437) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5702
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز خمر ( شراب ) ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف وصح عنه مرفوعا , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8397) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5703
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ : سَمِعْتُ شَبِيبًا وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کی ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7019) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5704
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيَّ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ , وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ الثَّبْتِ وَالْعَدَالَةِ مَشْهُورُونَ بِصِحَّةِ النَّقْلِ , وَعَبْدُ الْمَلِكِ لَا يَقُومُ مَقَامَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَوْ عَاضَدَهُ مِنْ أَشْكَالِهِ جَمَاعَةٌ , وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ، اور ہر نشہ آور چیز خمر ( شراب ) ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ لوگ ثقہ اور عادل ہیں اور روایت کی صحت میں مشہور ہیں ۔ اور عبدالملک ان میں سے کسی ایک کے بھی برابر نہیں ، گرچہ عبدالملک کی تائید اسی جیسے کچھ اور لوگ بھی کریں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5590 (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 5705
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ السَّعِيدِيِّ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي رُقَيَّةُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ , قَالَتْ : " كُنْتُ فِي حَجْرِ ابْنِ عُمَرَ , فَكَانَ " يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ , فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ , ثُمَّ يُجَفَّفُ الزَّبِيبُ , وَيُلْقَى عَلَيْهِ زَبِيبٌ آخَرُ , وَيُجْعَلُ فِيهِ مَاءٌ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ , حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ الْغَدِ طَرَحَهُ " , وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رقیہ بنت عمرو بن سعید کہتی ہیں کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی پرورش میں تھی ، ان کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی ، پھر وہ اسے صبح کو پیتے تھے ، پھر کشمش لی جاتی اور اس میں کچھ اور کشمش ڈال دی جاتی اور اس میں پانی ملا دیا جاتا ، پھر وہ اسے دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن وہ اسے پھینک دیتے ۔ «واحتجوا بحديث أبي مسعود عقبة بن عمرو» ان لوگوں نے ابومسعود عقبہ بن عمرو کی حدیث سے بھی دلیل پکڑی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، رقية بنت عمرو بن سعيد: مجهولة (التحرير: 8587) وعبيد اﷲ بن عمر السعيدي البصري مقبول (تقريب: 4326) أى مجهول الحال. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8602) (ضعیف الإسناد)»
حدیث نمبر: 5706
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ : عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ , فَاسْتَسْقَى , فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ , فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ , فَقَالَ : " عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ " فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ , فَقَالَ رَجُلٌ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ , قَالَ : " لَا " . وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ , لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ , وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے پاس پیاسے ہو گئے ، تو آپ نے پانی طلب کیا ۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی ۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا ( ناپسندیدگی کا اظہار کیا ) فرمایا : ” میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ “ ، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا ، ایک شخص بولا : اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) یہ ضعیف ہے ، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں ، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جا سکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9980) (ضعیف الإسناد) (مولف نے وجہ بیان کر دی ہے)»
حدیث نمبر: 5707
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ حُسَيْنٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَ يَصُومُهَا , فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ , فَلَمَّا كَانَ الْمَسَاءُ جِئْتُهُ أَحْمِلُهَا إِلَيْهِ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَصُومُ فِي هَذَا الْيَوْمِ , فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَكَ بِهَذَا النَّبِيذِ , فَقَالَ : " أَدْنِهِ مِنِّي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " , فَرَفَعْتُهُ إِلَيْهِ , فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ , فَقَالَ : " خُذْ هَذِهِ فَاضْرِبْ بِهَا الْحَائِطَ , فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ " . وَمِمَّا احْتَجُّوا بِهِ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن حسین کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھے ہوئے ہیں ان دنوں میں جن میں رکھا کرتے تھے ۔ تو میں نے ایک بار آپ کے روزہ افطار کرنے کے لیے کدو کی تونبی میں نبیذ بنائی ، جب شام ہوئی تو میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو میں آپ کے افطار کے لیے نبیذ لایا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” میرے قریب لاؤ “ ، چنانچہ اسے میں نے آپ کی طرف بڑھائی تو وہ جوش مار رہی تھی ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے لے جاؤ اور دیوار سے مار دو اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر “ ۔ «ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضى اللہ عنه» ان کی ایک اور دلیل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5613 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5708
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ إِمَامٌ لَنَا وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " إِذَا خَشِيتُمْ مِنْ نَبِيذٍ شِدَّتَهُ , فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ " , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْتَدَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع سے روایت ہے کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : جب تمہیں نبیذ میں تیزی آ جانے کا اندیشہ ہو ، تو اسے پانی ملا کر ختم کر دو ، عبداللہ ( راوی ) کہتے ہیں : اس سے پہلے کہ اس میں تیزی آ جائے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو حفص: مجهول (تقريب: 8056) ومع ذلك حسنه ابن كثير فى مسند الفاروق (2/ 515،516)! انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10660) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابو حفص مجہول ہیں)»
حدیث نمبر: 5709
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , يَقُولُ : تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ , فَدَعَا بِهِ , فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ , فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ , فَقَالَ : " هَكَذَا فَافْعَلُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` ثقیف کے لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مشروب رکھا ، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی ، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10452) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی سعید بن المسیب نے عمر رضی الله عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے)»
حدیث نمبر: 5710
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ , قَالَ : " كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ خُلِّلَ " , وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا حَدِيثُ السَّائِبِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عتبہ بن فرقد کہتے ہیں کہ` نبیذ جسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیا کرتے تھے ، وہ سرکہ ہوتا تھا ۱؎ ۔ اس کی صحت پر سائب کی یہ حدیث دلیل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: پچھلی روایات میں عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ آپ نے اس مشروب کے پینے پر منہ بنایا تھا، پھر پانی کے ذریعہ اس کے نشہ کو ختم کر کے پی گئے، کیونکہ آپ نے تو نشہ نہ آنے پر بھی اپنے بیٹے عبیداللہ پر شراب پینے کی حد لگائی تو خود کیسے نشہ آور مشروب کا نشہ پانی سے ختم کر کے اس کو پی لیا؟
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، إسماعيل بن أبى خالد عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10603) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5711
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَاءِ , وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ , فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ " , فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سائب بن یزید سے روایت ہے کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے اور بولے : مجھے فلاں سے کسی شراب کی بو آ رہی ہے ، اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کا شراب ہے اور میں پوچھ رہا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے ۔ اگر وہ کوئی نشہ لانے والی چیز ہے تو اسے کوڑے لگاؤں گا ، چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے پوری پوری حد لگائی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ اگرچہ عبیداللہ کو نشہ نہیں آیا ہے، لیکن اگر اس نے کوئی نشہ لانے والی چیز پی ہو گی تو میں اس پر بھی اس کو حد کے کوڑے لگواؤں گا، اس لیے طحاوی وغیرہ کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کہ نشہ لانے والی مشروب کی وہ حد حرام ہے جو نشہ لائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 10443) (صحیح الٕاسناد)»