کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: سابقہ مذکور برتنوں کے استعمال کے ممنوع ہونے کے دلائل کا بیان کہ ممانعت تادیبی نہیں بلکہ حتمی تھی۔
حدیث نمبر: 5646
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے کدو کی تونبی ، لاکھی برتن ، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ” رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو ، اور جس سے تمہیں روکیں ، اس سے رک جاؤ “ ( الحشر : ۷ ) ۔
حدیث نمبر: 5647
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا ، يُقَالُ : لَهُ أَنَسٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 ؟ , قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36 ؟ , قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنِّي " أَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس ( قیسی بصریٰ ) کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : «ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ” جو کچھ تمہیں رسول دے ، اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے ، اس سے رک جاؤ “ ( الحشر : ۷ ) میں نے کہا : کیوں نہیں ۔ انہوں نے کہا : کیا یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللہ ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» ” کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا “ ( الاحزاب : ۳۶ ) میں نے کہا : کیوں نہیں ، انہوں نے کہا : تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے برتن ، روغنی برتن ، کدو کی تونبی اور لاکھ برتن سے منع فرمایا ہے ۔