حدیث نمبر: 5540
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كَانَ إِذَا قِيلَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِهِ ، وَيَأْمُرُنَا أَنْ نَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَالْهَرَمِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَدَعْوَةٍ لَا تُسْتَجَابُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ` جب زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنایئے جو آپ نے خود سنی ہو تو وہ کہتے : میں تم سے وہی بیان کر رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا ، آپ ہمیں حکم دیتے کہ ہم کہیں : «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر اللہم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللہم إني أعوذ بك من نفس لا تشبع ومن قلب لا يخشع ومن علم لا ينفع ودعوة لا تستجاب» ” اے اللہ ! عاجزی ، سستی ، بخیلی ، بزدلی ، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر ، اسے پاک کر دے ، تو ہی سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو اس کا سر پرست اور مولا ہے ، اے اللہ ! میں ایسے نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو ، ایسے دل سے جس میں خوف الٰہی نہ ہو ، ایسے علم سے جو مفید اور نفع بخش نہ ہو اور ایسی دعا ہے جو قبول نہ ہو “ ۔
حدیث نمبر: 5541
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو فرماتے : «بسم اللہ رب أعوذ بك من أن أزل أو أضل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ، میرے رب ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ سے غلطی ہو جائے ، یا بھٹک جاؤں ، یا ظلم کروں ، یا مظلوم بنوں ، یا جہالت کروں ، یا کوئی مجھ سے جہالت سے پیش آئے “ ۔