کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اللہ کے ڈر سے خالی دل سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5444
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار باتوں سے پناہ مانگتے تھے : ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو ، ایسے دل سے جس میں اللہ کا ڈر نہ ہو ، ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک امتی ان چاروں چیزوں سے اس طرح پناہ مانگے «اللٰھم إنی أعوذبک من علم لاینفع ومن قلب لایخشع ومن دعا لایسمع ومن نفس لاتشبع» اسی طرح آگے جہاں بھی یہ آیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے وہاں واحد متکلم کا صیغہ بنا لے، جیسے اگلی حدیث میں «أعوذ من الجبن» ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8846)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 68 (3482)، مسند احمد (2/16767، 198) (صحیح)»