کتب حدیث › سنن نسائي › ابواب › باب: عورتوں کو ریشمی دھاری والے لباس پہننے کی اجازت۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ریشم کی دھاری والی قمیص پہنے دیکھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5298
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ والمحفوظ أم كلثوم مكان زينب , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3598) الزهري عنعن. والمحفوظ ’’أم كلثوم‘‘ بدل زينب. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/اللباس19(3598)، (تحفة الأشراف: 1540) (شاذ) (صحیح نام ’’ام کلثوم ‘‘ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ویسے اس روایت کے معنی میں کوئی ضعف نہیں)»
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ حَدَّثَنِي : " أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَ سِيَرَاءَ ، وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو سیراء دھاری دار ریشمی چادر پہنے دیکھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5299
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/اللباس 30 (5842)، سنن ابی داود/اللباس 14 (4058)، (تحفة الٔاشراف: 1533) (صحیح)»
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا النَّضْرُ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ , فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا ، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا " ، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء چادر تحفے میں آئی ، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی ، میں نے اسے پہنا ، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا ، چنانچہ آپ نے فرمایا : ” سنو ، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی “ ، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4043)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840) ، مسند احمد 1/130، 139) (صحیح)»