کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: انگوٹھی اتار دینے اور نہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5291
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ ، قَالَ : " شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ " ، ثُمَّ أَلْقَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا ، اور فرمایا : ” اس نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے ، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمہیں “ ، پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5291
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5515)، مسند احمد (1/322) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5292
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ ، فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ ، وَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ , وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ ، فَرَمَى بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی ، آپ اسے پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے ، تو لوگوں نے بھی ( انگوٹھیاں ) بنوائیں ، پھر آپ منبر پر بیٹھے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا : ” میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف رکھتا تھا “ ، پھر آپ نے اسے پھینک دی ، پھر فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ ، پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الٔلیمان 6 (6651)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، (تحفة الأشراف: 8281)، مسند احمد (2/119) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قِرَاءَةً ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعُوهُ ، فَلَبِسُوهُ ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَحَ النَّاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی ۱؎ صرف ایک دن دیکھی ، تو لوگوں نے بھی بنوائی اور اسے پہنا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی ۔
وضاحت:
۱؎: یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/اللباس 46 (5868 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس 14 (2093)، سنن ابی داود/الخاتم 2 (4221)، (تحفة الأشراف: 1475)، مسند احمد (3/160، 206، 223، 225) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5294
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ , فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا ، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ، جس سے آپ ( خطوط پر ) مہر لگاتے تھے اور اس کو پہنتے نہیں تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5221 (صحیح) (اس میں لفظ ’’ولا یلبسہ‘‘ شاذ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 5295
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ , وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَدْخَلَهُ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى هَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا ، پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں ، تو آپ نے اسے نکال دیا اور فرمایا : ” میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا ، پھر وہ انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنویں میں ضائع ہو گئی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 12 (2091)، (تحفة الٔاشراف: 8089) (صحیح)»