حدیث نمبر: 5209
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَصِّيصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ ثَغْرٍ ثِقَةٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْبَحْرَيْنِ , إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَجُبَّةُ حَرِيرٍ فَأَلْقَاهُمَا ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي ، فَقَالَ : " إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ " , قَالَ : لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ , قَالَ : " إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، قَالَ : فَمَاذَا أَتَخَتَّمُ ؟ قَالَ : " حَلْقَةً مِنْ حَدِيدٍ ، أَوْ وَرِقٍ ، أَوْ صُفْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بحرین ( احساء ) سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا ، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی اور ریشم کا جبہ ، اس نے وہ دونوں اتار کر پھینک دیے اور پھر سلام کیا ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا ، اب اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں تو سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں اور آپ نے مجھ سے رخ پھیر لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ تھا “ ، وہ بولا : تب تو اس میں سے بہت سارے انگارے لے کر آیا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تم جو کچھ بھی لے کر آئے ہو وہ ہمارے لیے اس حرہ کے پتھروں سے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے ، البتہ وہ دنیا کی زندگی کی متاع ہے “ ، وہ بولا : تو پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” لوہے کا یا چاندی کا یا پیتل کا ایک چھلا بنا لو “ ۔
حدیث نمبر: 5210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اتَّخَذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ ، فَقَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُوغَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ , وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى نَقْشِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلے اور آپ نے چاندی ایک چھلا بنوایا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” جو اس طرح کا چھلا بنوانا چاہے تو بنوا لے ، البتہ جو کچھ اس پر نقش ہے اسے نقش نہ کرائے “ ۔
حدیث نمبر: 5211
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا وَنَقَشَ عَلَيْهِ نَقْشًا ، قَالَ : " إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا ، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ " . ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ فِي يَدِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر نقش کرایا اور فرمایا : ” ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں کچھ نقش کرایا ہے ، تو تم میں سے کوئی اسے نقش نہ کرائے “ ، پھر انس رضی اللہ عنہ نے کہا : گویا اس کی چمک میں آپ کے ہاتھ میں ( ابھی بھی ) دیکھ رہا ہوں ۔