کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قرآن پڑھنے والے مومن اور منافق کی مثال۔
حدیث نمبر: 5041
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ ، وَلَا رِيحَ لَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے ، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کے مانند ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے ، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ ( خوشبودار گھاس وغیرہ ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے ، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا تھوہڑ ( اندرائن ) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإيمان وشرائعه / حدیث: 5041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فضائل القرآن 17 (5020)، 36 (5059)، الأطعمة 30 (5427)، التوحید 57 (7560)، صحیح مسلم/المسافرین 37 (797)، سنن ابی داود/الأدب 19 (4829)، سنن الترمذی/الأمثال 4 (2865)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 16 (214)، (تحفة الأشراف: مسند احمد (4/397، 403، 404، 408) سنن الدارمی/فضائل القرآن 8 (3406) (صحیح)»