کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ایمان میں ایک مسلمان کا دوسرے سے زیادہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5010
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمار کا ایمان ہڈیوں کے پوروں تک بھر گیا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عمار رضی اللہ عنہ کا ایمان بعض لوگوں سے زیادہ تھا، اس سے ایک دوسرے کا ایمان میں کم و بیش ہونا ثابت ہوا، سلف کا یہی عقیدہ ہے کہ ایمان میں کمی زیادتی خود ہر آدمی کے حساب سے بھی ہوتی ہے، نیز ایک دوسرے کے مقابلے میں بھی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإيمان وشرائعه / حدیث: 5010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الأعمش عنعن وهومدلس. وانظر سنن ابن ماجه (147 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15653) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی جب بری بات دیکھے تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ دور کر دے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ذریعہ اس کو دور کر دے ، یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے یعنی جو دل کے ذریعہ برائی کو ختم کرے گا وہ ہاتھ اور زبان کے ذریعہ برائی کو دور کرنے والے سے ایمان میں کم ہو گا اور دل کے ذریعہ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو برا جانے اور اس سے دور رہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإيمان وشرائعه / حدیث: 5011
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، الملاحم 17 (4340)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1275)، (تحفة الأشراف: 4085)، مسند احمد (3/10، 20، 49، 54، 92) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5012
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَغَيَّرَهُ بِيَدِهِ فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَغَيَّرَهُ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِلِسَانِهِ فَغَيَّرَهُ بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس کسی نے برائی دیکھی پھر اسے اپنے ہاتھ سے دور کر دیا تو وہ بری ہو گیا ، اور جس میں ہاتھ سے دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے زبان سے دور کر دی ہو تو وہ بھی بری ہو گیا ، اور جس میں اسے زبان سے بھی دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے اسے دل سے دور کیا ۱؎ تو وہ بھی بری ہو گیا اور یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسے برا سمجھا، اور اس سے دور رہا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإيمان وشرائعه / حدیث: 5012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»