کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟
حدیث نمبر: 5002
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ وَهَوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: کون سا مسلمان سب سے اچھا ہے؟ یا اسلام والا کون آدمی سب سے اچھا ہے ۔ ۲؎: یہ کئی بار گزر چکا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کے اپنے خاص احوال، یا سوال کے خاص تناظر میں اسی کے حساب سے جواب دیا کرتے تھے، کسی کے لیے کسی عمل پر تنبیہ مقصود تھی تو کسی کے لیے کسی اور عمل کی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإيمان وشرائعه / حدیث: 5002
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإیمان 5 (11)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (42)، سنن الترمذی/القیامة 52 (2504)، (تحفة الأشراف: 9041) (صحیح)»