کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حد نافذ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4908
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بارش عام طور پر رزق میں وسعت اور خوشحالی کا سبب ہوتی ہے، مگر حد کا نفاذ اس بابت زیادہ فائدہ مند ہے اس لیے کہ معاشرہ میں امن و امان کے قیام میں بہت ہی موثر چیز ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن بلفظ أربعين , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2538) جرير بن يزيد: ضعيف،،كما فى التقريب (917). وللحديث شواهد ضعيف،ة عند ابن حبان (1507 موارد) وغيره. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الحدود 3 (2538)، (تحفة الأشراف: 14888) حم2/362، 302، 302 (حسن) لفظ ’’أربعین‘‘ کے ساتھ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ میں ’’أربعین صباحا‘‘ کا لفظ آیا ہے، اور اگلی حدیث میں اربعین لیلة کا لفظ آ رہا ہے)»
حدیث نمبر: 4909
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ خَيْرٌ لِأَهْلِهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` زمین میں ایک حد کا نفاذ زمین والوں کے لیے چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن موقوف في حكم المرفوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2538) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن) (یہ موقوف حدیث حکم کے اعتبار سے مرفوع حدیث ہے)»