کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: چوری کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4874
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے زنا نہیں کرتا ، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے چوری نہیں کرتا ، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور نہ ہی وہ ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسی بڑی لوٹ کرتا ہے جس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہوں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ (۴۸۷۳)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12871) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ . ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، ثُمَّ التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ، جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ۔ جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو پیتے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ، اس کے بعد بھی اب تک اس کی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4875
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحدود 20 (6810)، صحیح مسلم/الإیمان 24 (57)، (تحفة الأشراف: 12395، 12495، 12866) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4876
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَذَكَرَ رَابِعَةً , فَنَسِيتُهَا ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب کوئی زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت وہ مومن نہیں رہتا ، چوری کرتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا ، شراب پیتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا ۔ ( راوی کہتا ہے ) پھر چوتھی چیز بیان کی جو میں بھول گیا ، جب وہ یہ سب کرتا ہے تو وہ اپنے گلے سے اسلام کا قلادہ نکال پھینکتا ہے ، پھر اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد: ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد دون قوله: ’’فإذا فعل ذلك خلع ……‘‘ إلخ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4875 (صحیح) (مگر اس کا آخری ٹکڑا ’’ فإذا فعل ذلک … من عنقہ ‘‘ کا اضافہ منکر ہے، اور اس کا سبب ’’یزید بن أبی زیاد‘‘ ہیں جو ضعیف راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 4877
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہو چوری کرنے والے پر ، انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی تھوڑے سے مال کے لیے ہاتھ کٹنا قبول کرتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحدود 1 (1687)، سنن ابن ماجہ/الحدود 22 (2583)، (تحفة الأشراف: 12515)، مسند احمد (2/253) (صحیح)»