کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مشترکہ مال بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4650
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ , أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ , فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شفعہ کا حق ہر چیز میں ہے ، زمین ہو یا کوئی احاطہٰ ( باغ وغیرہ ) ، کسی حصہ دار کے لیے جائز نہیں کہ اپنے دوسرے حصہ دار کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچے ، اگر اس نے بیچ دیا تو وہ ( دوسرا حصہ دار ) اس کا زیادہ حقدار ہو گا یہاں تک کہ وہ خود اس کی اجازت دیدے “ ۔
وضاحت:
۱؎: «شفعہ» : زمین، باغ گھر وغیرہ میں ایسی ساجھے داری کو کہتے ہیں جس میں کسی فریق کا حصہ متعین نہ ہو کہ ہمارا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے اور دوسرے کا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے بس مطلق ملکیت میں سب کی ساجھے داری ہو، ایسا ساجھے دار اگر اپنا حصہ بیچنا چاہتا ہے تو دوسرے شریک کو پہلے بتائے، اگر وہ اسی قیمت پر لینے پر راضی ہو جائے تو اسی کا حق ہے، اگر جازت دیدے تب دوسرے سے بیچنا جائز ہو گا، اور اگر اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو وہ اس بیع کو قاضی منسوخ کرا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساقاة 28 (البیوع49) (1608)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3513)، (تحفة الأشراف: 2806)، مسند احمد (3/312، 316، 357، 397)، سنن الدارمی/البیوع 83 (2670)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 4705 (صحیح)»