حدیث نمبر: 4549
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ؟ , فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ : " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ , " فَنَهَى عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجور بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سوال کیا : جب تازہ کھجور سوکھ جاتی ہے تو کیا کم ہو جاتی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر کسی کے پاس خشک کھجوریں ہوں اور وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتا ہے تو ایک دوسرے کے بدلے برابر یا کم و بیش کے حساب سے خرید و فروخت کرنے کی بجائے خشک کھجوروں کو پیسوں سے فروخت کر دے، پھر ان پیسوں سے تازہ کھجوریں خرید لے، ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے (دیکھئیے نمبر ۴۵۵۷)۔
حدیث نمبر: 4550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ , فَقَالَ : " أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ , " فَنَهَى عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوکھی کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے کے متعلق سوال کیا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” کیا تازہ کھجور سوکھنے پر کم ہو جائے گی ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۔