کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کئی سال تک کے لیے پھل بیچ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4535
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ , قَالَ قُتَيْبَةُ : عَتِيكٌ بِالْكَافِ وَالصَّوَابُ عَتِيقٌ , عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے سالوں میں پھل آئیں گے یا نہیں، اور پھل نہ آنے کی صورت میں خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہے اس طرح کی بیع کو بیع غرر یعنی دھوکے کی بیع کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم /البیوع 16 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3374)، سنن ابن ماجہ/التجارات 33 (2218)، (تحفة الأشراف: 2269)، مسند احمد (3/309)، ویأتی عند المؤلف برقم: 4631) (صحیح)»