کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا ، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خریدنے اور بیچنے والا جب تک الگ الگ نہ ہو جائیں دونوں کو اپنے ساتھی پر اختیار رہتا ہے ، سوائے اس بیع کے جس میں اختیار کی شرط ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: وہ معاملہ جس میں طرفین سے یہ طے ہو کہ فلان تاریخ تک یا اتنے دن تک معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار رہے گا، اس معاملہ میں مقررہ مدت تک حق اختیار اور حاصل رہے گا، باقی دیگر معاملات میں صرف معاملہ کی مجلس ختم ہونے تک اختیار رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4470
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابی داود/البیوع 53 (3454)، (تحفة الأشراف: 8341)، مسند احمد (1/56) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4471
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا ، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں ، یا پھر اختیار کی شرط ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531م)، (تحفة الأشراف: 8180)، مسند احمد (2/54) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں ، سوائے اس کے کہ بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو ، لہٰذا اگر بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہے تو بیع ہو جاتی ہے “ ( البتہ اختیار باقی رہتا ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4472
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 7506) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4473
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں الگ تھلگ نہ ہوں ، یا پھر ان کی بیع میں اختیار کی شرط ہو ، تو اگر بیع میں شرط اختیار ہو تو بیع ہو جاتی ہے ( لیکن حق اختیار باقی رہتا ہے ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7779) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4474
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا سَعيِدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ تھلگ نہ ہوں ، یا پھر ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ اختیار کی شرط کر لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4470 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4475
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ " , وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ : أَوْ يَقُولَ : " أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع کرنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک الگ تھلگ نہ ہوں ، یا پھر وہ اختیاری خرید و فروخت ہو “ ۔ نافع کی بعض روایتوں میں یوں ہے «‏أو يقول أحدهما للآخر اختر» ” یا ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہے : بیع میں اختیار کی شرط کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4476
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ " , وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ : " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع کرنے والے دونوں اختیار کے ساتھ رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ الگ تھلگ ہو جائیں ، یا بیع خیار ( اختیاری بیع ) کے ساتھ ہو “ ۔ کبھی کبھی نافع نے یوں کہا : ” «أو يقول أحدهما للآخر اختر» یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہے : بیع بالخیار کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4476
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 45 (2112)، صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2181)، (تحفة الأشراف: 8272)، مسند احمد (2/19) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4477
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا " , وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : " مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ , فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ , فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو آدمی آپس میں خریدیں اور بیچیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، اور ایک دوسری بار نافع نے ( «حتى يفترقا» کے بجائے ) «ما لم يتفرقا» کہا ، حالانکہ وہ دونوں ایک جگہ تھے ، یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے ، لہٰذا اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے اور وہ دونوں اس ( شرط خیار ) پر بیع کر لیں تو بیع ہو جائے گی ، اب اگر وہ دونوں بیع کرنے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان میں سے کسی ایک نے بیع ترک نہ کی تو بیع ہو جائے گی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4477
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4478
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا " , قَالَ نَافِعٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں ، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ( اختیاری خرید و فروخت ) ہو “ ۔ نافع کہتے ہیں : چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے ( فوراً ) جدا ہو جاتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1245)، (تحفة الأشراف: 8522) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4479
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَبَايِعَانِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4479
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»