کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نامعلوم اور گمنام شخص کے ذبیحہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4441
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ كَانُوا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ ، وَلَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، أَمْ لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكُلُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` کچھ اعرابی ( دیہاتی ) ہمارے پاس گوشت لاتے تھے ، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ آیا انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اس بابت خواہ مخواہ کا شک و شبہہ صحیح اور درست نہیں ہے، إلا یہ کہ پختہ طریقے سے ثابت ہو جائے کہ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 17256) (صحیح)»